’نابینا سعودی طالبہ کی فصاحت وبلاغت پر صوبائی گورنر احتراماً اُٹھ کھڑے ہوئے‘

ابتھال النصیر نابینا ہونے کے باوجود بزنس ایڈمنسٹریشن میں گریجوایشن کے بعد قانون کی ڈگری حاصل کررہی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے شمالی سرحدی صوبے کے گورنر شہزادہ فیصل بن خالد بن سلطان ایک باہمت اور باصلاحیت نابینا طالبہ کے احترام میں ایک تقریب کے دوران اپنی نشست پر کھڑے ہوگئے۔ اس واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ردعمل سامنے آیا ہے۔

شہزادہ فیصل بن خالد بن سلطان ایک تقریب کے دوران اس وقت ایک طالبہ کے اعزاز اور احترام میں کھڑے ہوگئے جب انہوں نے اس طالبہ کی فصاحت بلاغت سے بھرپور گفتگو سنی۔ وہ نابینا طالبہ کی باتوں اور اس کی صلاحیت سے بے حد متاثر ہوئے۔ اس موقعے پر انہوں نے نابینا خاتون کی صلاحیت پراسے داد تحسین پیش کی۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کے شمالی سرحدی صوبے کے گورنر معذوروں کے عالمی دن کے موقعے پر صوبائی محکمہ انسانی وسائل اور سماجی ترقی کے زیراہتمام تقریب میں مہمان خصوصی تھے۔ اس دوران بینائی سے محرومیت کے باوجود قانون میں ایل ایل بی کرنے والی ابتہال النصیر کھڑی ہوئیں۔ انہوں نے قانون میں ماسٹر کی ڈگری مکمل کرنے میں خود کو درپیش چیلنجز کے بارے میں بتایا۔ گورنر شہزادہ فیصل بن خالد ابتھال کی عربی میں گفتگو کے دوران ان کی فصاحت وبلاغت سے بے حد متاثر ہوئے اور ان کی تعریف اور احترام میں کھڑے ہوگئے۔

اپنی تقریر کے دوران ابتہال النصیر نے بتایا کہ اس کی زندگی میں ایک ایسا موڑ بھی آیا جس نے اس کی زندگی کا رُخ بدل دیا۔ یہ موڑ اس وقت آیا جب وہ کئی سال قبل اپنی بینائی سے محروم ہوگئیں۔

سوشل میڈیا پر ابتھال نصیر کی محنت اور تعلیم سے لگن کے ساتھ سعودی شہزادے کی طرف سے اس کی تعریف اور تحسین کو بھی سرہا جا رہا ہے۔

درایں اثنا گورنرشہزادہ فیصل بن خالد بن سلطان نے کہا کہ "مملکت کے وژن 2030 میں معذور بچوں اور خصوصی افراد پر بہت زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ وژن میں ان کے کردار کو مضبوط بنانے، انہیں معاشرے میں ضم کرنے، انہیں معاشرے کا بہترین اور کارآمد فرد بنانے ، تمام چیلنجوں پر قابو پانے اوران کی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ان میں دلچسپیوں کو آگے بڑھانے پر زور دیا گیا ہےتاکہ وہ رکاوٹوں اور مشکلات کو دور کرتے ہوئے معاشرے میں جامع اور مؤثر طریقے سے حصہ لینے کے لیے کوشش کریں اور مستقبل کے اپنے عزائم و مقاصد حاصل کرسکیں۔

قابل ذکر ہے کہ ابتہال کی "وِل اینڈ ایمبیشن" کی کہانی ناردرن بارڈر یونیو رسٹی میں میڈیسن کی تعلیم کے پہلے سال میں بینائی سے محروم ہونے کے بعد شروع ہوئی۔ بینائی سے محرومی نے اسے میڈیکل کی تعلیم ترک کرکے بریل پرسیکھنے پرمجبور کیا۔ اس نے طب کی تعلیم چھوڑ کر بزنس ایڈمنسٹریشن میں گریجوایشن کی۔ اس نے گذشتہ سیشن میں بزنس ایڈمنسٹریشن میں فرسٹ کلاس آنرز کے ساتھ گریجویشن کیا۔ اس وقت وہ کنگ سعود یونیورسٹی میں قانون میں ماسٹر ڈگری مکمل کر رہی ہیں۔

ابتہال النصیر نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے ساتھ جو ہوا وہ ایک حادثہ تھا جس نے ان کی بینائی چھین لی مگر بینائی چھن جانے کے باوجود انہوں نے تعلیم جاری رکھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں