ایرانی پاسداران انقلاب کی مظاہرین سے سختی سے نمٹنے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران میں کل پیر سے شروع ہونے والے نئے مظاہروں میں وسیع پیمانے پر عوامی شرکت کے مطالبات کے بعد ایرانی پاسداران انقلاب نے مظاہرین کو دھمکی دی ہے کہ ان پر کوئی رحم نہیں کیا جائے گا۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق پاسداران انقلاب نے تصدیق کی کہ سکیورٹی فورسز فساد برپا کرنے والوں، ڈاکوؤں اور دہشت گردوں" کو نہیں بخشیں گی۔

پاسداران انقلاب نے احتجاج پر عدلیہ کے موقف کی بھی تعریف کی اور اس پر زور دیا کہ وطن اور اسلام کی سلامتی کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف سزاؤں کے اجراء کو تیز کیا جائے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اطلاع دی ہے کہ اب تک ایران میں مظاہروں کے دوران گرفتار ہونے والے کم از کم 6 افراد کو جھوٹے مقدمات میں موت کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حکومت کے حکام سزائے موت کو سیاسی جبر کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں تاکہ شہریوں میں دہشت پیدا کی جا سکے اور عوامی بغاوت کو ختم کیا جا سکے۔

تنظیم کے بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ البرز گورنری میں کرج انقلابی عدالت میں 15 دیگر افراد پر "حرابہ" کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا۔

قابل ذکر ہے کہ ایران میں گذشتہ ستمبر سے اخلاقی پولیس کے ہاتھوں نوجوان خاتون مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد سے احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔ مہسا کو ایران کے مذہبی اصولوں کے خلاف لباس پہننے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ایران کے طول وعرض میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں