سعودی ولی عہد کی طرف سے سعودی شہریوں کے لیے روزگار کی بلند ترین شرح کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے شہریوں کے لیے ملک میں روزگار کی بلند ترین شرح کا اعلان کیا ہے۔ روزگار کے یہ بلند ترین شرح سے مواقع اگلے مالی سال کے لیے بجٹ خاکے میں پیش کیے گئے ہیں۔ ولی عہد نے اس موقع پر مملکت میں معاشی اصلاحات کی اور اب تک سامنے آنے والے مثبت نتائج کو بھی سراہا ہے۔ انہوں نے کہا 2023 کے سالانہ بجٹ میں ملک میں فراہمی روز گار کے مواقع کی شرح اب کی بلند ترین سطح ہو گی۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ' رواں سال کی تیسری سہ ماہی تک مملکت نے شرح نمو کی بلند ترین شرح کا حصول ممکن بنایا ہے اور شرح نمو کی یہ سطح 10،2 فیصد رہی۔ یہ شرح نمو واضح طور پر مختلف معاشی سرگرمیوں اور اشاریوں میں بھی دیکھی گئی ہے۔ جیسا کہ تیل کے علاوہ برآمدات کے شعبے میں شرح نمو 5،8 فیصد تک پہنچ گئی۔ اب توقع کے سال کے اواخر تک شرح نمو کی سطح 8،5 فیصد ہو جائے گی۔

وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے اس موقع پر کہا روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی بڑی وجہ شرح نمو میں اضافہ بنا ہے۔ اس کے نتیجے میں بے روز گاری کی سطح روان مالی سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران 9،7 فیصد نیچے چلی گئی ہے۔ ی پچھلے بیس برسوں کے حوالے سے ایک ریکارڈ ہے۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ' روزگار کے میدان میں آنے والی بہتری کا اندازہ اس بات سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ اس وقت 22 لاکھ سعودی شہری نجی شعبے میں کام کر رہے ہیں۔ یہ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔

خواتین کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا ' ملک کی اقتصادی صورت حال میں خواتین کی شرکت 17،7 سے بڑھ کر 35،6 ہو چکی ہے۔ یہ بھی ایک ریکارڈ ہے۔

ولی عہد نے سعودی شہریوں کے بارے میں کہا 'یہ ملک کا بہتری اثاثہ ہیں ، اس لیے مملکت کی ترقی میں ان کا کردار کلیدی حیثیت کا حامل ہونا لازمی ہے۔ اگلے سال کے منصوبوں کے حوالے سے ولی عہد نے کہا ' مملکت کے 2030 کے ویژن کی روشنی میں اگلے سال بڑے منصوبے ترجیحی بنیادوں پر شروع کیے جائیں گے۔ '

انہوں بے کہا 'ہماری کوشش ہے کہ ایسے پروگرام اور پروجیکٹ شروع کیے جائیں جو جن کے نتیجے میں معاشی ترقی کی رفتار میں پائیداری اور استحکام آئے۔ جیسا کہ سعودیہ نے 2013 کے بعد رواں سال پہلی بار سر پلس معیشت کا ہدف حاصل کیا ہے۔ '

ولی عہد نے کہا سرپلس معیشت کے نتیجے میں ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو گا۔ ان اہداف کے حصول کے لیے ویژن 2030 کی لانچنگ کے وقت ہی ترجیحات کر لی گئی تھیں۔ اسی لیے اقتصادی ڈھانچے میں اصلاحآت کی گئی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں