صدر شی کا دورہ سعودیہ: 30 عالمی تنظیموں کی شرکت سے 3 اہم سربراہی اجلاس ہوں گے

سعودیہ اور چین کے درمیان دوستی اور اخوت کا گہرا رشتہ، عالمی اور علاقائی امور میں ہم آہنگی ہے: صدر شی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

چینی صدر شی جن پنگ بدھ کو سعودی عرب کے سرکاری دورے پر پہنچے ہیں، ان کا یہ دورہ جمعہ تک جاری رہے گا۔

انھیں اس دورے کی دعوت سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیزنے دی تھی۔

کروناوائرس کی وَباکےآغاز کے بعد سے شی جن پنگ کا یہ تیسراغیر ملکی دورہ ہے۔2016 کے بعد سعودی عرب کا یہ ان کا پہلا دورہ ہے۔

اور سعودی پریس ایجنسی "واس" نے کہا کہ یہ دورہ تاریخی تعلقات اور ممتاز سٹریٹجک پارٹنرشپ کو مضبوط بنانے کے لیے سعودی عرب اور چین کو متحد کرتا ہے۔

سعودی عرب پہنچ کر بدھ کے روز چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ وہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے بات چیت میں مشترکہ تشویش کے علاقائی مسائل پر، بین الاقوامی امور پر اور ترقی کی منصوبہ بندی پر مل کر کام کرنے کے معاملات زیر بحث لائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین اور سعودی عرب کا دوستی ، شراکت اور اخوت کا گہرا تعلق ہے ۔ اپنے سفارتی تعلقات کے قیام کے 32 سالوں سے دونوں ملکوں نے تفہیم اور تعاون کا تبادلہ کیا ہے ۔ دونوں کے درمیان عملی تعاون نے تمام شعبوں میں موثر نتائج حاصل کئے ہیں۔

چینی صدر نے بتایا کہ سعودی عرب اور چین بین الاقوامی اور علاقائی امور میں قریبی روابط اور ہم آہنگی کو برقرار رکھتے ہیں ۔ دونوں ملکوں کے مابین 2016 میں جامع سٹریٹجک شراکت داری پر مبنی تعلقات کے قیام کے بعد سے میں نے اور خادم حرمین شریفین نے بڑی ترقی کے حصول کیلئے دو طرفہ تعلقات پر زور دیا ہے تاکہ اس سے دونوں قوموں کو فوائد ملیں اور خطے میں امن ، استحکام ، خوشحالی اور ترقی کو فروغ ملے۔

دورے کا پروگرام

چینی صدر کے دورے کے دوران 30 سے زائد ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہوں کی موجودگی میں تین سربراہی اجلاس منعقد کیے جائیں گے یہ "سعودی چینی، خلیجی چینی اور عرب چینی" سربراہی اجلاس ہیں ان اجلاسوں سے صدر شی کے دورے کی اہمیت کا بھی علم ہوتا ہے۔

صدر شی اس دورہ میں سعودی، چین مشترکہ سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس اجلاس میں شاہ سلمان اور شہزادہ محمد بن سلمان بھی موجود ہوں گے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق چینی صدر کے دورے کے ایجنڈے میں خلیج،چین سربراہ اجلاس برائے تعاون اور ترقی اورالریاض عرب چینی سربراہ جلاس برائے تعاون اور ترقی میں شرکت بھی شامل ہے۔

ان اجلاسوں میں ’’خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک اورعرب ممالک کو چین کے ساتھ جوڑنے والے خصوصی تعلقات‘‘پرغورکیا جائے گا۔ سعودی عرب چین کے جی سی سی اور دوسرے عرب ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک اہم ذریعہ ہے۔

خلیج تعاون کونسل کے ممالک اور چین کے ساتھ عرب ممالک کے درمیان امتیازی تعلقات کی بنیاد پر، دورے کے پروگرام میں صدر شی جن پنگ کی موجودگی، ریاض خلیجی چینی سربراہی اجلاس برائے تعاون اور ترقی، اور "ریاض عرب چینی سربراہی اجلاس" شامل ہوں گے۔ تعاون اور ترقی کے لیے سربراہی اجلاس، خلیج تعاون کونسل کے ممالک اور عرب ممالک کے رہنماؤں کی شرکت کے ساتھ، جس کے دوران دونوں سربراہی اجلاس تمام شعبوں میں مشترکہ تعلقات کو بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کریں گے، اور اقتصادی اور ترقیاتی تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کریں گے۔

سعودی چینی سربراہی اجلاس کے موقع پر مملکت اور چین کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری کی دستاویز پر دستخط ہوں گے۔

اس دوران سعودی عرب کے ’’وژن 2030 ‘‘ اور چین کے ’’ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو‘‘ کے درمیان ہم آہنگی لانے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا جائے گا۔

سعودی عرب اور چین کے درمیان ثقافتی تعاون کے لیے شہزادہ محمد بن سلمان ایوارڈ کا بھی اعلان کیا جائے گا۔

80 سال کا رشتہ

سعودی اور چین کے سفارتی تعلقات ایک ممتاز اور قریبی ترقی کی گواہی دے رہے ہیں اور دونوں دوست ممالک مختلف شعبوں میں مزید تعاون اور باہمی افہام و تفہیم کی جانب تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات 80 سال قبل شروع ہوئے تھے۔

ان تعلقات میں تعاون اور ترقی کے مختلف پہلو شامل تھے۔ دونوں ملکوں میں سادہ تجارتی تعلقات تھے اور چینی زائرین کے استقبال کی صورت میں بھی تعلقات قائم تھے۔ جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان اتفاق رائے کے بعد 1990ء میں یہ تعلقات سرکاری شکل اختیار کر گئے اور مکمل سفارتی تعلقات قائم کر لئے گئے۔

سعودی- چین تعلقات بہت امتیازی خصوصیت کے حامل ہیں جو دونوں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے ہیں۔ ان معاہدوں کی شقوں پر عمل درآمد کے لحاظ سے بھی تعلقات مثبت رہے ہیں۔ زمانے کی تبدیلیوں کو اپنانے کیلئے ترقی کے حصول میں دو طرفہ تعاون دیکھا گیا ہے۔

دو طرفہ شراکت داری

خادم حرمین شریفین اور اس کے ولی عہد کی قیادت میں سعودی عرب کی چینی فریق کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کی خواہش اس کی تزویراتی سمت کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ تمام بااثر ممالک اور بین الاقوامی طاقتوں کے ساتھ اپنے دوطرفہ تعلقات اور شراکت داری کو مضبوط کیا جا سکے۔

اعلیٰ سطح کی سعودی چینی مشترکہ کمیٹی کی سربراہی سعودی جانب سے شہزادہ محمد بن سلمان اور ریاستی کونسل کے نائب وزیر اعظم ہان ژینگ کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کی حکومتوں کی جانب سے سیاسی اور سیکورٹی میں ہم آہنگی بڑھانے کی موجودہ کوششوں کے ساتھ ساتھ ثقاقت، ٹیکنالوجی، تجارت، سرمایہ کاری، اور توانائی کے پہلوؤں میں تعاون کو بڑھانے کے لیے بھی کام کیا جارہا ہے۔

دونوں دوست ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات نے مختلف شعبوں میں بہت سے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ ان میں دونوں حکومتوں کے درمیان اور تاجروں کے درمیان دونوں طرح کے معاہدے شامل ہیں۔ سعودی عرب کی چین کو زیادہ تر برآمدات تیل پر مبنی ہیں۔

سعودی عرب اور چین متعدد بین الاقوامی تنظیموں اور اقتصادی بلاکوں کی رکنیت میں حصہ لیتے ہیں جیسے کہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن اور گروپ آف ٹوئنٹی جیسے بلاک ہیں۔

پہلا شراکت دار

چین نے پچھلے 5 سالوں سے سعودی عرب کے سب سے بڑے تجارتی پارٹنرکی جگہ سنبھال رکھی ہے۔ کیونکہ 2018 کے بعد چین سعودی عرب کی برآمدات اور غیر ملکی درآمدات کی پہلی منزل تھی۔ 2021 میں دونوں ملکوں میں انٹرا ٹریڈ کا حجم 309 بلین ریال یا 82.4 ارب ڈالر تھا جو 2020 کے مقابلے میں 39 فیصد زیادہ تھا۔ چین کو سعودی برآمدات کا کل حجم 192 بلین ریال یا 51.2 ارب ڈالر تھا جس میں سے غیر تیل کی برآمدات 41 بلین ریال تھیں۔

چین میں سعودی سرمایہ کاری کی مالیت 8.6 بلین ریال تھی اور سعودی عرب 2019 کے آخر تک چین میں سرمایہ کاری کرنے والے ممالک کی درجہ بندی میں 12 ویں نمبر پر تھا۔ دوسری طرف 2021 کے آخر میں مملکت میں چینی سرمایہ کاری کی مالیت 29 بلین ریال تھیں۔

دونوں ملکوں میں اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مدد کیلئے ایک سعودی چینی فنڈ قائم کیا گیا تھا جس کا سرمایہ 1.5 ارب سعودی ریال تھا۔

ایٹمی اور ماحولیاتی تعاون

2012 میں سعودی عرب اور چین نے جوہری تعاون کو بڑھانے کے لیے ایک منصوبے پر دستخط کیے جس کا مقصد پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کو فروغ دینے کے میدان میں دونوں ممالک کے درمیان جامع سٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانا تھا۔ اسی طرح سائنس، ٹیکنالوجی اور اقتصادی تعاون میں شراکت داری کو بہتر بنانا بھی مقصد تھا۔

چین سعودی ولی عہد کی جانب سے شروع کیے گئے "گرین مڈل ایسٹ" اقدام کی بھی حمایت کرتا ہے۔ اور چینی صدر شی جن پنگ کے تجویز کردہ عالمی ترقیاتی اقدام میں سعودی عرب کی شمولیت کا بھی خیرمقدم کیا گیاہے۔

ثقافتی تبادلہ

دونوں ممالک کے درمیان تعلقات صرف مذکور شعبوں تک محدود نہیں تھے بلکہ ان تعلقات کا دائرہ بہت وسیع ہے جس میں ثقافتی تبادلہ بھی شامل ہے۔ اس حوالے سے ایک نئی جہت کا اضافہ کیا گیا ہے۔ خاص طور پر وزارت ثقافت کی جانب سے 2019 میں "شہزادہ محمد بن سلمان ایوارڈ" کے اعلان سے سعودی عرب اور چین کے درمیان ثقافتی تعاون، ثقافتی اورسائنسی تعلقات کو مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ اس ایوارڈ کا مقصد چین میں عربی اور تخلیقی زبان، ادب اور فنون کو فروغ دینا، باہمی افہام و تفہیم اور ثقافتی تبادلے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

صدر شی کے اس دورہ کے دوران سعودی عرب اور چین کے مابین سٹریٹجک پارٹنرشپ دستاویز پر دستخط کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ 110 ارب ریال سے زیادہ کے 20 سے زیادہ ابتدائی معاہدوں پر بھی دستخط کئے جائیں گے۔ ان معاہدوں کی مالیت لگ بھگ 29.29 ارب ڈالر کے برابر بنتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں