چین کے صدر شی کا سعودی دورہ ، توانائی اور آئی ٹی کے شعبوں میں 34 معاہدوں پر دستخط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

چینی صدر شی کے مملکت سعودیہ کے تین روزہ دورے کے آغاز میں ہے دو طرفہ تعاون اور شراکت داری بڑھانے کے لیے سعودی اور چینی کمپنیون کے درمیا 34 معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔ صدر شی بدھ کے روز تین روزہ سرکاری دورے پر ریاض پہنچے تھے۔ کووڈ 19 کے بعد ان کا یہ تیسرا بیرون ملک کا دورہ ہے۔

سعودی اور چینی کمپنیوں کے درمیان درجنوں معاہدوں پر بدھ کی شام ہی دستخط کر لیے گئے۔ ان معاہدوں کا تعلق گرین انرجی ، گرین ہائیڈروجن ، فوٹو وولٹک انرجی ، انفامیشن ٹیکنالوجی، کلووڈ سروسز، ٹرانسپورٹیشن ، لاجسٹکس ، میڈیکل انڈسٹریز اور ہاوسنگ کے شعبوں سے ہے۔

سعودی وزیر برائے سرمایہ کاری خالد بن عبدالعزیز الفالح نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ' یہ معاہدات ولی عہد کے ویژن 2030 کے مطابق ہیں، ولی عہد کے زیر قیادت ہی چین کے ساتھ مختلف شعبہ ہائے زندگی تعلقات کو توجہ دی جارہی ہے۔

انجینئیر الفالح نے کہا صدر شی کا سعودی دورہ دونوں یہ ظاہر کرتا ہے دونوں کی قیادت دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی اور ترقی میں شراکت داری کو کس قدر اہمیت دیتی ہے۔ اس دورے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی و سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون و ترقی کی رفتار میں اضافہ ہو گا۔

وزیر سرمایہ کاری نے مزید کہا ' سعودیہ اور چین کے تعلقات ٹھوس بنیاد رکھتے ہیں، دو طرفہ تعاون کے نتیجے میں ماضی میں بھی جامع ترقی ممکن ہوئی اور آئندہ بھی ترقی کے اور تعاون کے نئے راستے کھلیں گے۔

یاد رہے پچھلے سال چین اور سعودیہ کے درمیان تجارتی حجم 80 ارب ڈالر تھا جو رواں سال کے دوران تجارتی حجم 270 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ صدر شی کا دورہ 9 دسمبر تک جاری رہے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں