ایرانی محسن شکاری کے پھانسی سے پہلے کے آخری لمحات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جمعرات کو ایرانی میڈیا نے مظاہروں میں شریک محسن شکاری کی زندگی کے آخری مناظر نشر کیے جنہیں پھانسی دے دی گئی۔

جمعرات کی صبح ایران میں حکام نے ایک محافظ کو چاقو سے وار کرنے کے الزام میں مظاہرہ کرنیوالے محسن شکاری کو پھانسی دینے کا اعلان کیا۔

تہران حکومت کو جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ

ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم نے حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے محسن شکاری کو پھانسی دئیے جانے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ مجرموں کے خلاف سخت ردعمل اور فوری بین الاقوامی اقدام کی ضرورت ہے۔

اپنے بیان میں انسانی حقوق تنظیم نے کہا ایک مظاہرہ کرنے والے کی سزائے موت پر عمل کے بعد ایرانی حکام کو جوابدہ ٹھہرانے کی ضرورت ہے۔

فرضی عدالت

تنظیم نے یہ بھی واضح کیا کہ حکام نے احتجاج کرنیوالے محسن شکری کے خلاف سزائے موت ایک فرضی عدالت کے ذریعے سنائی گئی۔ اس عدالت نے کسی قانونی طریقہ کار پر بھروسہ نہیں کیا۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے اطلاع دی ہے کہ سپریم کورٹ نے مدعا علیہ کی اپیل مسترد کر دی اور فیصلے کو یہ کہہ کر درست قرار دیا کہ اس کے اقدامات "محاربہ کا جرم" کے تحت آتے ہیں۔

مسلسل احتجاج

یاد رہے کہ 16 ستمبر کو 22 سالہ ایرانی کرد خاتون مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد سے ایران میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ مہسا کو ایران میں سخت لباس کوڈ کی خلاف ورزی کرنے پر "اخلاقی پولیس" نے گرفتار کرلیا تھا جس کے تین روز بعد وہ پولیس کی حراست میں ہی انتقال کر گئی تھی۔

ایرانی حکام احتجاجی مظاہروں کو فسادات سے تعبیر کر رہے ہیں اور الزام عائد کر رہے ہیں کہ امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی ان مظاہروں کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ بیرون ملک مقیم کرد بھی احتجاجی تحریک کو اکسا رہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے پاسداران انقلاب کے ایک کمانڈر نے اعلان کیا تھا کہ بدامنی میں 300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سکیورٹی فورسز کے درجنوں ارکان بھی شامل ہیں۔ اس دوران ہزاروں افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں