سعودی عرب میں 7 چینی فیکٹریاں قائم، 10 دیگر زیر تعمیر ہیں: وزیر صنعت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے وزیر صنعت اور معدنی وسائل بندر الخوریف نے کہا ہے کہ سرمایہ کاری کے شعبے میں مملکت اور چین کے درمیان تعاون کے حجم کا بڑا حصہ ہے اور ان کے درمیان بڑھتی ہوئی تزویراتی شراکت داری تعاون کے تمام شعبوں بالخصوص صنعت اور کان کنی میں دیکھی جا سکتی ہے۔

الخوریف نے کہا کہ سعودی اتھارٹی برائے صنعتی سیٹیز اور ٹیکنالوجی زونز کے شہروں میں پلاسٹک، دھاتوں، سیرامکس، کنکریٹ اور کھانے کی صنعتوں کے شعبوں میں کام کرنے والی 7 چینی فیکٹریوں کی میزبانی کررہی ہے جب کہ تقریباً 10 دیگر فیکٹریاں تعمیر اور نفاذ کے منصوبہ بندی کے مختلف مراحل میں ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ سعودی سرمایہ کاری کے حوالے سے رائل کمیشن فار جوبیل اور ینبع کے لیے چینی کمپنیوں کے ساتھ تقریباً 12 منصوبے مختلف مراحل میں ہیں، جن میں سے کچھ پر کام جاری ہے اور دیگر پروسیجر یا ڈیزائن کے تحت ہیں۔

انہوں نے اشارہ کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون میں گزشتہ پانچ سالوں کے دوران غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، کیونکہ 2021 کے دوران غیر تیل کی برآمدات 36 ارب ریال سے زائد تھیں، جب کہ اسی مدت کے لیے چین سے مملکت کی درآمدات 112 ارب ریال تھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پیٹرو کیمیکل اور معدنیات چین کو سعودی برآمدات کی فہرست میں سرفہرست ہیں جبکہ بھاری مشینری، الیکٹرانکس، گاڑیاں اور اسپیئر پارٹس مملکت کو سب سے نمایاں چینی برآمدات ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں