’’یہ تو ورلڈ کپ میچ میں بھی تھی‘‘حزب اللہ حامیوں نے شامی بچی کے آنسوؤں کی تردید کردی

اصل ویڈیو شمالی شام میں غریب ترین انسانوں کی مدد کیلئے سرگرم "ایمرجنسی ریسپانس ٹیم" کے اکاؤنٹ سے لی گئی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کچھ دن قبل بھوک اور سردی کے باعث اپنی تکالیف کو بیان کرتے ہوئے شامی بچی کا ویڈیو کلپس سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر پھیلایا گیا۔ اس ویڈیو میں شامی بچی کے آنسو ٹپک پڑے اور اس کے ساتھ بیٹھی بچی بھی روتی دکھائی دی۔ ویڈیو نے پوری دنیا میں لوگوں کو غمگین کردیا۔ بچی جنگ کے باعث مہاجر کیمپوں میں مقیم افراد کو سردی اور بھوک کے باعث درپیش المناک حالات دنیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے رو پڑی تھی۔

تاہم اس بچی کو بھی لبنانی حزب اللہ ملیشیا کے حامیوں سے نہیں بخشا اور ان میں سے ایک نے گردش کرنے والی اس ویڈیو کی ہی تردید کر دی۔

بچی ورلڈ کپ میں موجود!

حزب اللہ حامی نے ویڈیو سے بچی کی تصویر کے ساتھ ساتھ ورلڈ کپ کے ایک میچ میں ایک اور بچی کی تصویر بھی شائع کی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ورلڈ کپ میں شریک بچی وہی ہے جو ویڈیو میں روتی دکھائی دی تھی۔ ساتھ ہی دعویٰ کیا کہ بچیوں کو پیسے کے حصول کیلئے استعمال کیا جارہا ہے اور امداد چوری کرنے کے لیے کچھ لوگوں کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ جس بچی کی ویڈیو بنائی گئی وہ ورلڈ کپ میں موجود ہے۔

حزب اللہ حامیوں کے اس دعویٰ پر لوگوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ لوگوں نے کہا کہ دونوں لڑکیوں میں بالکل بھی مماثلت نہیں ہے۔

یاد رہے کہ شامی بچی کی ویڈیو "ایمرجنسی ریسپانس ٹیم" کے اکاؤنٹ سے لی گئی ہے، یہ ٹیم شمالی شام میں بحرانوں سے نمٹنے اور غریب ترین انسانی معاملات کو محفوظ بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ ٹیم کے مطابق اپنی سرگرمیوں کے دوران انسانی ہمدردی کے معیارات کی پاسداری کی جاتی ہے۔

سردی اور بھوک

ویڈیو میں لڑکی نے اپنی بہن کے ساتھ آنسوؤں کے ساتھ بتایا تھا کہ شمالی شام بے گھر ہونے کے باعث انہیں کیا مشکلات کا سامنا ہے۔ جس خیمے میں ہم موجود ہیں وہاں لکڑیاں نہیں ہیں اور سردی کے باعث ہم اپنے اعضا تک احساس نہیں رہتا اور اسی حالت میں ہم سو جاتے ہیں۔ بچی نے روتے ہوئے بتایا کہ بھوک ان کے پیٹ کو بھی کھا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں