روس سے بلیسٹک میزائل لینے کی ایرانی کوششیں

بدلے میں روس ایران کو اسلحہ دے گا: برطانیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اقوام متحدہ میں برطانوی سفیر باربرا ووڈ ورڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ روس ایران سے مزید ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان میں بلیسٹک میزائل بھی شامل ہیں۔ اس کے بدلے میں روس ایران کو فوجی شعبے میں ایک غیر معمولی نوعیت کی مدد کی پیش کش کر رہا ہے۔ برطانوی سفیر نے یہ بات جمعہ کے روز کہی ہے۔

ووڈ ورڈ نے مزید کہا کہ 'ماہ اگست سے اب تک ایران نے روس کو سینکڑوں ڈرون طیارے منتقل کیے ہیں۔ روس ان ڈرونز کی مدد سے یوکرینی شہریوں کو قتل اور شہری تنصیبات کے علاوہ شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہا ہے۔ '

دوسری جانب ایران ڈرونز کی ترسیل کا انکار کرتا ہے کہ اس نے یوکرین کے ساتھ جنگ کے دنوں میں روس کو کوئی ترسیل کی ہے۔ روس بھی اپنی افواج کے ایرانی ڈرونز استعمال کرنے کی تردید کرتا ہے۔

ووڈ ورڈ نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا 'روس اب ایران سے مزید اسلحے کے حصول کی کوشش میں ہے، ہمیں اس بارے میں تشویش ہے کہ بدلے میں روس سے ایران کو ملنے والی عسکری ٹیکنالوجی سے ایران ہتھیاروں کے شعبے میں مزید مضبوط ہو جائے گا۔ ' برطانوی سفیر کے ان خیالات کے بارے میں اقوام متحدہ میں قائم روسی یا ایرانی مشنوں میں سے کسی نے کچھ نہیں بولا ہے۔

خیال رہے ایران نے روس کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل روس کو فراہم کرے گا۔ نیز ڈرون طیارے دے گا، دو ایرانی سفارتکاروں نے یہ بات ماہ اکتوبر میں میڈیا سے کہی تھی۔

جبکہ بدھ کے روز امریکہ کی طرف سے کہا گیا کہ ایران نے روس کو ڈرون طیاروں کی سپلائی مسلسل جاری رکھی ہوئی ہے۔ تاہم امریکہ نے ابھی تک ایرانی بلیسٹک میزائلوں کی روس کو ترسیل کے بارے میں ایسے شواہد نہیں دیکھے ہیں ۔

واضح رہے برطانوی سفیر نے یہ گفتگو سکیورٹی کونسل کے جمعہ کے ہونے والے اجلاس سے کچھ دیر پہلے کہی تھی۔'اگر روسی ہتھیار ایران کو مل گئے تو یہ ہتھیار یورپ کے علاوہ مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں دہشت گردوں اور ڈاکووں کے ہاتھ لگ جائیں گے۔'

ووڈ ورڈ نے مزید کہا 'برطانیہ اس بارے میں تقریبا یکسو ہے کہ روس شمالی کوریا سے اسلحہ لینے کی کوشش کر رہا ہے۔ حالانکہ شمالی کوریا بھی ایسا ملک ہے جس پر پابندیاں عائد ہیں ، کیونکہ روس کے اسلحے کے ہتھیار واضح طور پر کم ہو رہے ہیں۔'

اس سلسلے میں اقوام متحدہ دستیاب ہونے والی اطلاعات کا جائزہ لے رہی ہے۔ تاکہ دیکھ سکے کہ ایران نے روس کو کیا اسلحہ منتقل کیا ہے۔

پچھلے ہفتے یو این سکیورٹی کونسل کو سیکرٹری جنرل پر مغربی ملکوں کا دباؤ آیا تھا کہ تھا کہ ماہرین کی ایک ٹیم یوکرین بھیجیں تاکہ وہاں گرنے والے ڈرونز سے اندازہ کیا جا سکے۔جرمنی ، فرانس ، برطانیہ اور یوکرین کا موقف تھا کہ روس کو ایرانی ڈونز کی سپلائی 2015 کی یو این سکیورٹی کونسل کی قرار داد کی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔

اس کے مقابلے میں روس کا موقف تھا کہ سیکرٹری جنرل کو ایسا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ ماہرین کو ڈرونز کے معائنے کے لیے بھیج سکیں کہ یہ کہاں کے ساختہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں