اردنی شہری 43 سال کی تلاش کے بعد اپنی مصری ماں تک پہنچ گیا، سوشل میڈیا پر بحث

"لاپتہ بچے" کے صفحے پر ایک پوسٹ نے نوجوان کے چار دہائیوں کے غم کا خاتمہ کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کسی افسانے کی طرح کی ایک کہانی سوشل میڈیا ویب سائٹس پر بڑے پیمانے پر زیر بحث آگئی۔ اس واقعہ میں ایک اردنی نوجوان 43 سال کی علیحدگی کے بعد اپنی مصری ماں سے دوبارہ مل گیا۔

وسام اپنی والدہ ریڈا محمد الکورانی تک پہنچنے میں اس وقت کامیاب ہوا جب اس نے فیس بک پر گمشدہ بچوں کے صفحے پر اپنی ایک پرانی تصویر پوسٹ کی، جس میں اس نے لکھا، "آپ کا بیٹا زندہ ہے اور آپ کو ڈھونڈ رہا ہے۔" اس فیس بک پیچ پر آنے والے مصری اور اردنی شہریوں نے متحرک کردار ادا کیا اور نوجوان کو ماں کے حوالے کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

کہانی کا آغاز اس وقت ہوا جب مصری خاتون نے 1979 میں اپنا بیٹا کھو دیا اور سوچا کہ وہ مر گیا ہے، کیونکہ اس کی شادی ایک اردنی سے ہوئی تھی اور وہ عمان میں رہتی تھی۔ بیٹے کو جنم دینے کے بعد وہ بیماری میں مبتلا تھی اور اسے ہسپتال میں حراست میں لے لیا گیا تھا۔

غم کی 4 دہائیاں

اردنی نوجوان کو اس کی ماں سے ملانے والی اس پوسٹ میں کہا گیا تھا کہ " میری ماں مصری ہے اور جس کے پاس بھی معلومات ہیں وہ صفحہ کے ذریعے رابطہ کر سکتا ہے۔" کچھ دن بعد، وہ اپنی والدہ رضا محمود رمضان تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا جو قاہرہ گورنریٹ کے عزبۃ النخل میں رہائش پذیر تھی۔

چار دہائیوں سے غم سہنے والی ماں نے اپنے بیٹے کی گود میں واپسی پر بے پناہ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا "میں نے دو دن سے کھانا نہیں چکھا کیونکہ میں حد سے زیادہ خوش ہوں۔

اردنی نوجوان وسام نے اپنے والد کی موت کے بعد کئی بار مصر کا دورہ کیا اور اپنی والدہ کو تلاش کرنے کی بہت کوشش کی، تاہم اس کی یہ کوششیں رائیگاں گئی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں