ایران میں دوسرے احتجاجی کارکن کو سزائے موت کاحکم،عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ہفتے کے روز ایران کی سپریم کورٹ نے گزشتہ جمعرات کو پہلے احتجاجی کارکن محسن شکاری کو پھانسی کے بعد احتجاج کرنے والے دوسرے نوجوان کی سزائے موت کی توثیق کردی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ ایرانی حکام کی جانب سے دوسرے احتجاجی کارکن کو سزائے موت کا اجرا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ تنظیم نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر کہا کہ سزائے موت ایرانی احتجاجی کارکن سہند محمد زادہ کے خلاف جاری کی گئی۔ تنظیم نے سزائے موت کو "زندگی کے حق پر ایک ہولناک حملہ اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا، عالمی قانون ان جرائم پر سزائے موت کے استعمال پر پابندی لگاتا ہے جن میں جان بوجھ کر قتل شامل نہیں ہوتا ۔ تنظیم نے مزید کہا کہ محمد زادہ کو سزائے موت ایک فرضی مقدمہ کے بعد دی گئی اور اس کی گرفتاری کے دو ماہ سے بھی کم عرصے کے بعد سزا کا فیصلہ سنا دیا گیا۔

کچرے کی ٹوکری کو آگ لگانا

تنظیم نے اشارہ کیا کہ محمد زادہ کے وکیل نے مقدمے کی سماعت کے دوران اس بات پر زور دیا کہ ثبوت کے طور پر استعمال ہونے والی فوٹیج سے ان پر لگائے گئے الزامات ثابت نہیں ہوتے۔

گزشتہ ماہ 27 سالہ سہند محمد زادہ کو تہران کی ایک انقلابی عدالت نے ’’ عداء اللہ ‘‘ کے الزام کا مجرم قرار دیا تھا۔ محمد زادہ پر کوڑا کرکٹ کو آگ لگانے اور سڑک بلاک کرنے کا الزام تھا جس کی اس نے تردید کی تھی۔ ایران کا پینل کوڈ جج کی صوابدید کے مطابق "زمین پر جنگ اور بدعنوانی" کے مرتکب افراد کے لیے سزائے موت یا پھانسی کو ضروری سمجھتا ہے۔

یاد رہے ایران میں 16 دسمبر سے حکومت کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔ حکومت نے جمعرات کے روز مظاہروں کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ احتجاجی کرنے والے ایک شخص کو سزائے موت دی تھی۔ ایرانی حکومت کے اس اقدام کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی۔ عدلیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ احتجاجی کارکن محسن شکاری ایک فسادی ہے جس نے 25 ستمبر کو تہران میں سڑک عبور کرکے ایک سکیورٹی اہلکار پر چاقو سے حملہ کردیا تھا۔ محسن شکاری کو پھانسی دیدی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں