متحدہ عرب امارات: ’سینڈوچ میکر‘ کی ملازمت کیلئے اشتہار، شہریوں میں غم و غصہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

’سینڈوچ میکر‘ کی ملازمت کے لیے اماراتی شہریوں سے درخواستیں طلب کرنے کے اشتہار نے لوگوں میں غم و غصے کو جنم دیا، جسے مبینہ طور پر رسوا کرنے کی کوششیں قرار دیا، حکام نے تحقیقات کا آغاز کر دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے پبلک پراسیکیوشن کے دفتر نے بتایا کہ نوکری کے ’متنازع‘ اشتہار پر فوری تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، کاروبار کے چیف ایگزیکٹیو افسر سے بھی پوچھ گچھ کی جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق اس میں کسی چیف ایگزیکٹیو افسر یا کمپنی کی وضاحت نہیں کی گئی لیکن یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے، جب کمال عثمان جمجوم گروپ نے سب وے فاسٹ فوڈ چین میں پوزیشن کے لیے اشتہار دیا تھا، جو اماراتی شہریوں کے لیے ’ملازمتوں کو مقامی بنانے کے لیے ریاست کی کوششوں کی حمایت کے لیے‘ خصوصی طور پر تیار کیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملازمت کا اعلان جو بعد از اں واپس لے لیا گیا تھا، جنوری کی اس ڈیڈ لائن سے قبل دیا گیا تھا، جس میں متحدہ عرب امارات کی نجی کمپنیوں کو 50 سے زیادہ ملازمین کی صورت میں 2 فیصد عملے کو یو اے ای شہری ہونے کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ جرمانے سے بچ سکیں۔

ایک ٹوئٹر صارف نے ردعمل میں لکھا کہ یہ طنز ہے۔

ایک اور ٹوئٹ پوسٹ جسے سیکڑوں افراد کی جانب سے شیئر کیا گیا، اس میں لکھا تھا کہ انتظامی، مالیاتی اور تکنیکی ملازمتوں کی قلت سینڈوچ میکر کی طرف لے جاتی ہے…. واہ، کیا بات ہے۔

امارات کے ماہرین تعلیم بھی اس بحث میں شامل ہو گئے، اماراتی تحقیق کار میرا الحسین نے لکھا کہ تیل کے بعد منتقلی کا یہ دور مشکل ثابت ہو رہا ہے۔

بہرحال، دیگر نے کہا کہ اس قسم کی نوکری کرنے میں کوئی شرم نہیں ہے، ایک امارتی نے ٹوئٹ میں بتایا کہ ارب پتی جیف بیزوس نے پہلے مکڈونلڈ میں نوکری شروع کی تھی۔

متحدہ عرب امارات کے پبلک پراسیکیوشن کے دفتر نے بتایا کہ ملازمت کا اشتہار امارتیائزیشن (یو اے ای کے لوگوں کو ملازمت دینا) کے ضوابط اور میڈیا کے مواد کے معیارات پر بھی پورا نہیں اترتا کیونکہ اس مواد متنازع ہے۔

کمال عثمان جمجوم گروپ نے اشتہار شائع کرنے پر معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ترجمے کی غلطی‘ کی وجہ سے ناقص تشکیل ہوئی۔

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے مطابق متحدہ عرب امارات کی نجی شعبے کی لیبر فورس کا 90 فیصد سے زیادہ تارکین وطن پر مشتمل ہے۔

آئی ایل او نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کے شہری مستحکم اور نسبتاً اچھی تنخواہوں والی نوکریوں میں ملک کے بڑے پبلک سیکٹر میں ملازمت کرتے ہیں۔

اماراتی ملازمتوں کو فروغ دینے کے لیے متحدہ عرب امارات کی حکومت نے رواں برس ایک لازمی ’امارتائزیشن‘ مہم کا آغاز کیا جو نجی شعبے کی بڑی کمپنیوں کو اچھے عہدوں پر شہریوں کی خدمات حاصل کرنے پر مجبور کرتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ یکم جنوری 2023 سے اس کی پابندی نہ کرنے والی کمپنیوں کو فی ملازمت 6 ہزار درہم (1633 ڈالر) تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

گزشتہ مہینے یو اے ای کے وزیر برائے ہیومن ریسوس اور امارتائزیشن عبدالرحمٰن عبدالمنان نے بتایا تھا کہ 2022 میں 14 ہزار سے زائد اماراتی شہری ملازمت کی منڈیوں میں داخل ہوچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں