اسرائیلی حملے سے خوفزدہ حزب اللہ کی شام میں ایک بار پھر سے نقل و حرکت

حزب اللہ نے دمشق کے جنوب میں اپنے فوجی مقامات سے ہتھیار اور گولہ بارود الکسواہ کے آس پاس مقامات پر منتقل کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنانی حزب اللہ ملیشیا نے ممکنہ اسرائیلی حملے کے خوف سے شام میں ایک مرتبہ پھر مقامات تبدیل کرنے کی کارروائیاں انجام دی ہے۔ حزب اللہ نے دمشق اور حمص کے مشرقی ریگستان کے آس پاس کے اپنے متعدد فوجی مقامات کو تبدیل کر لیا ہے جس کا انکشاف شام کی آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کیا ہے۔

آبزرویٹری کے مطابق حزب اللہ ملیشیا نے دارالحکومت دمشق کے جنوب میں اپنے فوجی مقامات سے ہتھیار اور گولہ بارود کو دمشق کے جنوب مغرب میں الکسواہ کے اطراف کے مقامات پر منتقل کردیا ہے۔ آبزرویٹری نے مزید کہا کہ پارٹی رہنماؤں کے حکم پر اسلحہ کو ایک سے زائد گوداموں میں پھیلا دیا گیا ہے۔

حمص کے دیہات میں خاص طور پر حمص کے مشرقی علاقے میں حزب اللہ نے اپنی پوزیشن تبدیل کرلی ہے۔ اپنا اسلحہ اور گولہ بارود شہر کے آس پاس دیگر مقامات، جو زیادہ دور نہیں، کی طرف منتقل کردیا ہے۔ جن گوداموں میں اسلحہ منتقل کیا گیا ان کو مضبوط بنایا گیا ہے۔

آبزرویٹری کے مطابق یہ معاملہ حزب اللہ ملیشیا "کیموفلاج آپریشنز" کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ آپریشنز ممکنہ اسرائیلی حملے یا "نامعلوم طیاروں" کے فضائی حملوں کے خوف سے کئے جاتے ہیں۔

سیریئن آبزرویٹری نے نومبر کی دس تاریخ کو بتایا تھا کہ حزب اللہ ملیشیا نے دمشق کے دیہی علاقوں میں شامی لبنان کی سرحد کے قریب اپنے فوجی مقامات اور پوائنٹس کے اندر نئی کیموفلاج کارروائیاں کی ہیں۔ اس وقت فوجی گشت نے سرحدی پٹی سے تقریباً 4 کلومیٹر کے فاصلے پر دیماس کے علاقے کے قریب حزب اللہ کے 3 مقامات اور پوائنٹس پر شام کا جھنڈا بلند کیا تھا۔

ان مقامات پر موجود ارکان نے شامی فوج کی وردی بھی پہن رکھی تھی اور اپنی گاڑیوں پر شام کا جھنڈا بھی اٹھا رکھا تھا جس پر بشار الاسد کی تصویریں لگی ہوئی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں