اسرائیل کے نامزد وزیراعظم نیتن یاہو کا’لبرل دائیں بازو‘ کی حکومت کا وعدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کے نامزد وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے منگل کے روزمذہبی اور سیکولر مفادات کو متوازن کرنے کا عہد کیا ہے۔وہ قوم پرست اورالٹرا آرتھوڈوکس یہودکی جماعتوں کے ساتھ مل کر ایک نئی حکومت تشکیل دینے کی کوشش کررہے ہیں۔

نیتن یاہو کو سبکدوش ہونے والے وزیراعظم یائرلیپڈ اور بدعنوانی مخالف گروہوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اورخبردارکیاگیا ہے کہ ان کے مستقبل کے شراکت داروں کے مطالبات اسرائیل کی جمہوریت کوختم کردیں گے اورپہلے ہی یہودی عبادت گاہ اورریاست میں کم زورتعلق کو مزید کم زورکریں گے۔

نیتن یاہو کا نئی حکومت کی تشکیل کے لیےانتہائی دائیں بازو کے دھڑوں کے ساتھ سمجھوتا طے پایا ہے۔یہ گروہ مقبوضہ بیت المقدس(یروشلم) کےشہرِقدیم میں واقع مسجد الاقصیٰ میں ایک ایسی جگہ پر یہودیوں کی عبادت پرپابندی ختم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں جہاں اس وقت انھیں داخلے کی تو اجازت ہے لیکن ان کی عبادت پر پابندی ہے۔

نیتن یاہو اب بھی الٹرا آرتھوڈوکس گروپوں کے ساتھ بات چیت کررہے ہیں جو یہودی سبت (ہفتہ)کے دن کاروبار اور نقل و حمل پر پابندی چاہتے ہیں اور ساحلوں پر صنفی علاحدگی کو ترجیح دیتے ہیں۔

نیتن یاہو نے پارلیمان میں کہاکہ ہم ’اسٹیٹس کو‘ برقرار رکھیں گے۔سبت کے دن بجلی (پیداوار) ہے اور ہوگی اورہرایک کے لیے ساحل ہو جائے گا۔

اسرائیل میں ’اسٹیٹس کو‘کی اصطلاح سیکولرمذہبی تعاون اور مقبوضہ بیت المقدس میں مسجدالاقصی کے احاطے میں مسلم حکام کے ساتھ دہائیوں پرانے انتظام کے لیے استعمال کی جاتی ہے جس کے تحت یہودیوں کووہاں جانے کی اجازت ہے ، لیکن وہ وہاں عبادت نہیں کرسکتے۔یہ یہودیت میں سب سے مقدس جگہ ہے، جہاں ان کے دومتبرک مقام ہیں۔

نامزداسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ ’’ہرکوئی اپنے اپنے عقیدے کے مطابق زندگی بسرکرے گا۔ یہ مذہبی قانون کی قوم نہیں بنے گی۔یہ ایک ایسا ملک ہوگا جس میں ہم بغیرکسی استثنا کے اسرائیل کے تمام شہریوں کی طرف مائل ہوں گے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ہمیں اپنے راستے میں،قوم پرست-دائیں بازوکے راستے اورلبرل-دائیں بازوکے راستے میں قیادت کرنے کے لیے منتخب کیاگیا تھا،اورہم بھی ایسا ہی کریں گے‘‘۔

یائرلیپڈ اورسبکدوش ہونے والی بائیں بازو کی حکومت کے دیگرعہدے داروں نے نیتن یاہو کے ساتھ حکومت میں ان کے خلاف بدعنوانی کے جاری مقدمے کی وجہ سے جزوی طور پرشامل ہونے سے انکارکردیا ہے۔

انھوں نے ایک تقریر میں کہا کہ نیتن یاہو کمزور ہیں اوراپنے مقدمے سے خوفزدہ ہیں۔جو لوگ ان سے کم عمر ہیں ،جو ان سے زیادہ انتہاپسند اورپرعزم ہیں ،انھوں نے اقتدار سنبھال لیا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے یہ بات اس وقت کہی جب پارلیمنٹ نے ایک نئے چیئرمین کا انتخاب کیا جس سے توقع کی جا رہی ہے کہ نیتن یاہو کو حکومت بنانے میں مدد دینے کے لیے متنازع قوانین کا ایک سلسلہ آگے بڑھایا جائے گا۔ ایسا ہی ایک بل مجرمانہ ریکارڈ کے باوجود ایک سینئررکن کو کابینہ میں خدمات انجام دینے کے قابل بنائے گا۔

نیتن یاہواپنے خلاف بدعنوانی کے الزامات سے انکار کرتے ہیں۔ان کے پاس حکومت کو حتمی شکل دینے کے لیے 21 دسمبر تک کا وقت ہے۔بہ صورت دیگر اس کا مطلب ایک اور الیکشن ہوسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں