سعودی بچے حماد کے فلم ’’طارق الوادی‘‘ میں تخلیقی کام کی زبردست پذیرائی

اشتہارات میں کام کرکے حماد ایک ڈرامے میں آیا تو فلم کے آڈیشن کیلئے بلا لیا گیا: ماں کا العربیہ ڈاٹ نیٹ کو انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے 11 سالہ سعودی بچے حماد فرحان نے فلم "طارق الوادی" شاندار اداکاری کرکے بڑے پیمانے پر توجہ حاصل کرلی، ان کے تخلیقی کام کو ناظرین میں بڑی پذیرائی ملی ہے۔ انہوں نے فلم میں ایک آٹسٹک بچے کا کردار بخوبی دھارا ہے۔

حماد کی ماں کے ساتھ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے انٹرویو کیا۔ ماں نے بتایا کہ اشتہارات میں شرکت حماد کا نقطہ آغاز تھا، پھر قومی دن کے لیے ایک ڈرامے میں اس نے شرکتکی ، اس کے بعد فلم کے آڈیشنز کے لیے گیا اور اسے اس فلم کے آڈیشن دینے کا موقع فراہم کردیا گیا۔

اداکاری کی تربیت

حماد فرحان کی ماں نے کہا ہم نے اس کی حوصلہ افزائی کرنے اور اسے فلموں میں اداکاری کرنے کی ترغیب دینے کے لئے خاندان میں کام کیا۔ ہدایت کار اور ورکنگ ٹیم کے تعاون کے ساتھ ہم نے پرفارمنس کے اہم ترین نکات کی طرف اس کی توجہ مبذول کرائی۔ بالآخر حماد خاندان کی حوصلہ افزائی اور صبر آزما کام کرنے کے بعد کامیاب ہوگیا۔ ایک فلم کے بعد وہ اداکاری کرنے کیلئے پھرپور پرعزم ہوگیا۔

سب سے نمایاں چیلنجز

حماد کی والدہ نے بتایا کہ اس فلم کے دوران میرے بیٹے کو چیلنجز درپیش تھے ان میں ایک ڈیڑھ سال تک فلم بندی کا تسلسل تھا۔ اسی طرح کام کیلئے سعودی عرب کے جنوب اور مرکز کے مختلف مقامات پر جانا بھی ایک چیلنج تھا۔ اس دوران جنوبی سعودیہ میں ایک آٹھ سال بند نماص کے ایک محل میں بھی کام کیا گیا۔

فلم کی کہانی

حماد کی والدہ نے کام کے ڈائریکٹر خالد فہد کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے فنکاروں کے ایک بڑے گروپ کے درمیان ان کے بیٹے کو فلم میں حصہ لینے کا موقع دیا ۔ اس گروپ کی قیادت نائف خلف اور فنکار عصیل عمران کر رہے تھے جنہوں نے حماد کی حمایت کی۔ چھوٹی عمر کے باوجود حماد کی اداکاری کی ناقدین نے بھی تعریف کی ۔

فلم کی کہانی ایک آٹسٹک بچے کے باپ کے گرد گھومتی ہے جو گاؤں کے باہر ایک مقامی طبیب کی نگرانی میں اپنے بیٹے کا علاج کرانے کا فیصلہ کرتا ہے۔ باپ اور بیٹے درپیش چیلنجوں اور رکاوٹوں میں اپنا سفر شروع کرتے ہیں اس دوران بیمار بچے کی فطری ذہانت کا پتہ چلتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں