سعودی عرب میں مقامی’’ اونٹ فیسٹول‘‘ کیسے ایک عالمی تقریب میں تبدیل ہوگیا

تہوار ثقافتی، اقتصادی اور تفریحی مقام بن گیا، اصلیت کا تحفظ اورعصری تہذیبی رجحان کا امتزاج پیش کرتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

جیسے ہی آپ سعودی دارالحکومت ریاض کے شمال میں صياهد کی سرزمین پر کنگ عبدالعزیز اونٹ فیسٹیول میں قدم رکھیں تو احساس ہوتا ہے کہ آپ ایک انوکھی "دنیا" میں داخل ہو گئے ہیں۔ یہ فیسٹول آپ کی یادوں میں اونٹوں کی دنیا کے متعلق ناقابل فراموش معلومات اور مناظر شامل کرتا جاتا ہے۔

ہر چیز میلے کی تنظیم میں اعلیٰ سطح کی ترقی اور جگہ، وقت، واقعات، سرگرمیوں اور سہولیات کے اچھے انتخاب کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ سب کچھ ایک مقامی تقریب کو ایسی عالمی تقریب میں تبدیل کرنے کے تجربے کی عکاسی کررہا ہے۔ یہ وہ عالمی تقریب ہے جس کا اونٹ سے محبت کرنے والوں، زائرین اور سیاحوں کو مدت سے انتظار تھا۔ سرمایہ کاروں کی کاوشوں سے چند سالوں میں یہ تہوار ایک بے مثال ثقافتی، اقتصادی اور تفریحی مقام میں تبدیل ہو گیا ہے۔

سیاحت اور تجارتی سرگرمیاں

فیسٹیول کی انتظامیہ نے اس جگہ پر سیاحت اور تجارتی سرگرمیوں کی ترقی کے لیے کام کیا ہے۔ انتظامیہ نے جو اعلیٰ سطح کی خدمات فراہم کیں وہ صرف مقابلوں میں حصہ لینے والوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ عوام، زائرین اور سیاحوں کیلئے بھی اعلی درجہ کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ مختلف قسم کی ثقافتی اور تفریحی تقریبات، بہترین ریستوراں اور لگژری ہوٹل کے کمرے، اور نقل و حمل کے محفوظ ذرائع نے بڑی تعداد میں لوگوں کو اس فیسٹول میں شرکت پر آمادہ کردیا ہے۔

اونٹ کلب کے ایک عہدیدار نے بتایا خادم حرمین شریفین شاہ سلمان کی ہدایت پر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی نگرانی میں 2017 میں کیمل کلب کے قیام کے بعد سے اس فیسٹول میں دنیا بھر سے آنے والے شائقین کی تعداد بتدریج بڑھتی جا رہی ہے۔

سعودی تاریخ میں اونٹوں کی اہمیت دیکھتے ہوئے اور اونٹوں کے ہمارے ورثے اور ثقافت سے گہرے تعلق کی بنا پر اس فیسٹول کو زبردست ترقی دی گئی ہے۔ یہ فیسٹول اونٹوں میں دلچسپی لینے والوں کو ایک بندھن میں متحد کردیتا ہے۔

اونٹ سیکٹر اور اس کی ترقی

سعودی عرب اونٹوں کے شعبے کی دیکھ بھال اور اس شعبہ کو ترقی دینے پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔ سعودی ’’ویژن 2030‘‘ کے تحت اس شعبہ میں سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے اور اونٹوں میں دلچسپی پیدا کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ اونٹ وہ ممتاز ثقافتی ورثہ ہے جو سعودیوں کے لئے باعث فخر ہے۔ سعودی عرب کی تاریخ میں اونٹوں کی اس اہمیت کے پیش نظر کیمل کلب نے کمیونٹی کو آگاہ کرنے اور اس کی دیکھ بھال میں اپنا کردار واضح کرنے کے لیے سرگرمیاں شروع کی ہیں۔ سعودی عرب کے لیے ایک اقتصادی ذریعہ کے طور پر سیکٹر اور متعلقہ صنعتوں کو سپورٹ کرکے اونٹوں کے معاشی اور ترقیاتی فوائد کو بھی متعارف کیا گیا ہے۔

کیمل کلب، جس کی سربراہی شیخ فہد بن فلاح کر رہے ہیں، کاروباری افراد کی اس بڑھتے ہوئے شعبے میں اقتصادی، ثقافتی، تعلیمی، سیاحت اور دیگر مواقع تلاش کرنے میں مدد کرتا ہے۔ سرمایہ کاروں کو معلومات، خدمات اور مراعات فراہم کی جاتی ہیں۔

اونٹوں کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مختلف معاشی مواقع ہیں جن میں صحرائی تفریحی مقامات، خوراک، ویٹرنری صحت کی دیکھ بھال، اونٹوں کو تیار کرنے کے اوزار اور لوازمات، نقل و حمل، انفارمیشن ٹیکنالوجی، اونٹ کی تقریبات اور مارکیٹنگ شامل ہیں۔

مسلسل ترقی

اونٹوں میں دلچسپی رکھنے والی جماعتوں نے اونٹوں کے مقابلوں کو عالمی میلے میں تبدیل کرنے میں کامیابی کا سہرا کنگ عبدالعزیز اونٹ فیسٹیول کی سرگرمیوں میں سال بہ سال مسلسل ترقی کو قرار دیا ہے۔ اونٹ فیسٹول کو مسلسل ترقی دی جارہی ہے۔ اگلے ورژن میں دو نئے مقابلے شامل کیے گئے۔ ھجیج مقابلہ الگ سے ہے۔ اونٹوں کی پیداوار بڑھانے کے مقابلے میں اونٹوں کی تعداد بڑھا دی گئی ہے۔ عوام کیلئے اونٹوں کے نئے مقابلے متعارف کرائے گئے ہیں۔

پانچواں ایڈیشن

اونٹ فیسٹول کے پانچویں ایڈیشن میں تمام زمروں کے مقابلے کیلئے رنگ "المجاہیم" کے لیے ایک آزاد کمیٹی اور رنگ "المغاتیر" کے لیے ایک آزاد کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ آخری سیشن میں خواتین کے لیے ایک کھلا راؤنڈ، ایک بین الاقوامی مقابلہ، الشداد مقابلہ، اور اپیل کمیٹی کے قیام کا انعقاد کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں