عراقی فوج کا میجر ادارے میں موجود کرپشن کے خلاف پھٹ پڑا

فوجی افسر کی جان کی امان پر وزیراعظم السودانی سے ملاقات کی درخواست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراقی فوج کےایک میجرنے اپنی جان کی امان کی درخواست کے ساتھ ایک ویڈیو کلپ میں وزیراعظم اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف محمد شیاع السودانی سےبراہ راست ملاقات کی درخواست کی ہے۔

عراقی فوج میں شامل افسر علاء حاتم نایف مزال علی نے اپیل کی کہ وہ السودانی سے مل کر ان سے وضاحت کریں گے کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے اندر کیا ہو رہا ہے۔

"بچہ سرمئی ہو رہا ہے"

انہوں نے مزید کہا کہ فوج میں بدعنوانی کی بہت زیادہ ہوچکی ہے۔ انہوں نے کرپشن کی صورت حال کو تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ "یہاں تک کہ ایک بچہ بھی اس سے سرمئی ہو رہا ہے۔"

انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ فوج کے اندر بدعنوانی کے حوالے سے جو کچھ ہو رہا ہے وہ عراق میں دہشت گردی سے زیادہ خطرناک ہے۔ فوجی افسر کا کہنا تھا کہ فوج میں بدعنوان لیڈر بھی ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ میڈیا کے سامنے دیگر تفصیلات ظاہر نہیں کریں گے۔ وہ صرف وزیراعظم کے سامنے بات کریں گے۔

عراقی فوج کے میجر کا کہنا تھا کہ کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے کے بعد انہیں اپنی زندگی خطرے میں لگتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "دہشت گردی مجھے نہیں مارے گی، لیکن فوج کے اندر موجود بدعنوان جو ہر اس آزاد شخص کو نشانہ بناتے ہیں جو بدعنوان اور ناانصافیوں کو بے نقاب کرتا ہے مجھے جان سے مار دیں گے۔"

کرپشن کا پھیلتا ناسور

یہ بات قابل ذکر ہے کہ بدعنوانی زیادہ تر سرکاری اداروں میں گھس چکی ہے، اور ملک میں متوسط درجے سے متعلق مقدمات میں شاذ و نادر ہی فیصلے سنائے جاتے ہیں۔

سنہ2020ء میں شائع ہونے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق عراق میں تقریباً 20 سال میں 400 ارب یورو سے زیادہ غائب ہونے کی وجہ بدانتظامی تھی، جس میں سے ایک تہائی ملک سے باہر چلا گیا۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے "پرسیپشنز آف کرپشن" انڈیکس میں عراق 180 میں سے 157 ویں نمبر پر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں