لبنان میں کام پر دیر سے آنے والے شامی بچے پر وحشیانہ تشدد، ویڈیو نے دل دہلا دئیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مواصلاتی ویب سائٹس پر وائرل ایک ویڈیو نے دیکھنے والوں کے دل دہلا دئیے ہیں۔ اس ویڈیو میں معصومیت کے تمام معنی اپنے چہرے سے عیاں کرتے ایک شامی لڑکے کو دیکھا جا سکتا جو لوگوں کو اپنی زندگی کی سختیوں سے آگاہ کر رہا ہے۔

اپنی زندگی کے مختصر سالوں میں بغیر کسی جواز کے اپنے جسم اور اپنے چہرے پر پڑنے والی شدید ماروں سے بچنے کیلئے اس لڑکے کے پاس کوئی آسرا نہیں ہے۔

لالچ سے روٹی کھانے کا منظر

دلوں کو غم کرنے والی ویڈیو سوشل میڈیا پر پھیل گئی جس میں ایک شامی لڑکے کو دکھایا گیا کہ اپنے آجروں کے تشدد کے بعد وہ کس طرح بڑے لالچ سے روٹی کھا رہا ہے۔

لڑکے نے ہاتھوں میں روٹی کا ایک ٹکڑا تھاما ہوا اور وہ وضاحت کررہا ہے کہ اس بہانے سے مارا پیٹا گیا ہے کہ اسے گایوں اور بھیڑوں کو چرانے کے لئے آنے میں کچھ تاخیر ہوگئی تھی۔

اس چرواہے نے بتایا کہ تشدد سے میری دائیں آنکھ شدید متاثر ہوگئی ہے جس کا اندازہ آنکھ کے گرد پڑے نیلوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے، اس نے کہا میرا ایک دانت بھی توڑ دیا گیا ہے۔

ویڈیو کلپ دیکھ کر سوشل میڈیا پر متحرک افراد نے بڑے پیمانے پر غم و غصہ کا اظہار کیا اور مجرموں کو فوری سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

دس لاکھ سے زیادہ بے گھر شامیوں کی لبنان آمد

واضح رہے کہ شامی جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک لبنان نے 10 لاکھ سے زیادہ بے گھر شامیوں کی میزبانی کی ہے جن میں سے تقریباً 888,000 اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے پاس رجسٹرڈ ہیں۔ سب سے زیادہ تعداد بیکا گورنریٹ میں موجود ہے جو کل شامی مہاجرین کا 39 فیصد ہے۔ اس کے بعد شمالی علاقوں، بیروت اور جنوب کی گورنریاں شامی پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں