لبنان میں یونیفیل مشن میں شامل آئرش امن فوجی ہلاک،تحقیقات کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

لبنان میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں شامل ایک آئرش فوجی کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا ہے۔ایک اور فوجی شدید زخمی ہے او اس کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ آئرلینڈ کے وزیرخارجہ اور وزیردفاع سائمن کووینی نے اپنے فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ ان کی بکتربند گاڑی کو’’دشمن‘‘ ہجوم نے گھیر لیا تھا۔

آئرش فوجی لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورسز (یونیفیل) کا حصہ ہیں۔یونیفیل جنوبی لبنان میں تعینات ہے اور یہ واقعہ بدھ کی رات دیر گئے العاقبيہ کے علاقے میں پیش آیا تھا۔

کووینی نے آئرش قومی نشریاتی ادارے آر ٹی ای کو بتایاکہ آئرش فوجی دودوبکتربند گاڑیوں پرسوار ہوکر اپنے آپریشن کے علاقے سے دارالحکومت بیروت کی جانب جارہے تھے لیکن ان کی گاڑیوں کو ایک دوسرے سے الگ کرلیا گیا تھا۔ان میں سے ایک کو ’’دشمن ہجوم‘‘ نے گھیرلیا اورگولیاں چلائی گئیں جس کے نتیجے میں بدقسمتی سے ہمارا ایک امن فوجی ہلاک ہوگیا ہے۔

ان کاکہنا تھا کہ ایسے واقعہ کی توقع نہیں کی جاتی تھی۔اگرچہ حالیہ مہینوں میں حزب اللہ ملیشیااور یونیفیل کے درمیان برسرزمین پرکچھ کشیدگی ہوئی ہے لیکن ایسا کچھ نہیں ہواتھا‘‘۔

آئرش دفاعی افواج کے چیف آف اسٹاف شان کلانسی نے آرٹی ای کوبتایاکہ آٹھ اہل کاروں کو لے جانے والا قافلہ بیروت جا رہا تھا۔ان میں شامل دو ارکان خاندان کے افراد کی موت کے بعدرخصت پرآئرلینڈ واپس آرہے تھے۔

کلانسی نے بتایا کہ دوسرے فوجی کی حالت تشویش ناک ہے اور وہ اقوام متحدہ کے زیر انتظام ہسپتال میں زیر علاج ہے۔گاڑی میں سوار دواورفوجیوں کو معمولی چوٹیں آئی ہیں جبکہ دوسری گاڑی میں سوار باقی چار اہلکار زخمی نہیں ہوئے ہیں۔

لبنان میں اقوام متحدہ کے امن مشن نے کہا ہے کہ وہ لبنانی فوج کے ساتھ تعاون کر رہا ہے اور اس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔یونیفیل نے ایک بیان میں کہا، "اس وقت واقعہ کی تفصیل بہت کم اور متضاد ہے‘‘۔

لبنان کے نگراں وزیراعظم نجیب میقاتی نےاس واقعہ پرگہرے افسوس کا اظہارکرتے ہوئے تحقیقات پرزوردیا ہے۔انھوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ 'دانشمندی اور صبروتحمل کا مظاہرہ کریں'۔

لبنانی فوج نے آئرش فوجی کی ہلاکت پراپنی تعزیت کا اظہار کیا ہے لیکن اس واقعے کے بارے میں مزید تفصیل فراہم نہیں کی۔

حزب اللہ کے ایک سینیرعہدہ دارکا کہنا ہے کہ ’’ایک غیر ارادی واقعے" کی وجہ سے جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں شامل ایک آئرش فوجی ہلاک ہو گیا۔اس واقعےمیں ان کا مسلح گروپ ملوث نہیں تھا۔

وافق صفا نے خبر رساں ادارے رائٹرزکو بتایا کہ ان کی جماعت نے العاقبيہ کے رہائشیوں اورآئرش یونٹ کے افراد کے درمیان ہونے والے غیرارادی واقعے کے بعد تعزیت کا اظہارکیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی جماعت کو اس واقعہ میں ’شامل‘ نہ کیا جائے۔

سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود کووینی نے کہا کہ وہ جمعرات کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کریں گے اور اس واقعہ پر تبادلہ خیال کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئرش امن فوجی 1978 سے لبنان میں موجود ہیں اورگذشتہ دو دہائیوں میں کسی فوجی کی یہ پہلی ہلاکت ہے۔

آئرش وزیر اعظم مائیکل مارٹن نے برسلز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم سب بہت صدمے میں ہیں اور بہت غمگین ہیں، یہ ہمارے لیے ان غیرمعمولی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جوہمارے امن فوجی مستقل بنیادپر دیتے رہتے ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں