واشنگٹن میں آرٹ کی نمائش میں شریک سعودی سکالر کی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اپنی پینٹنگز میں اعلی اور جدید فنکارانہ اسلوب اختیار کرکے ممتاز مقام حاصل کرنے والے سعودی مصور احمد القادری کو امریکی ہارورڈ یونی ورسٹی نے اعزاز سے نوازا اور اپنے ہاں آرٹ نمائش ’’ فیوچر آف دی کیپٹل آرٹ‘‘ نمائش میں شرکت کیلئے مدعو کیا۔ اس نمائش میں احمد القادری نے اپنے چار فن پارے پیش کئے۔ سعودی مصور نے ’’ تصوراتی فوٹو گرافی‘‘ کے عنوان کے تحت کیٹگری میں اپنا کام پیش کیا اور داد وصول کی۔

تصوراتی فوٹو گرافی تصاویر کشی کا ہی ایک طریقہ ہے جس میں فنکار کسی تصور یا خیال کے ساتھ ایک تصویر یا نمونہ بناتا ہے۔

تصوراتی فوٹو گرافی

واشنگٹن کی نمائش میں شرکت کرنے والے احمد القادری نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو انٹرویو دیا اور اس میں بتایا ’’ میں اپنی پینٹنگز کے انتخاب پر بہت خوش ہوں، یہ ایک بہترین موقع تھا جس سے میں نے عرب دنیا کی تاریخ اور فن کو دکھانے کا فائدہ بھی حاصل کرلیا۔ میں اس نمائش میں واحد سعودی اور عرب کے طور پر اپنی شرکت پر فخر محسوس کر رہا ہوں‘‘

اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے القادری نے کہا میں نے فوٹو گرافی کی پینٹنگز میں حصہ لیا جس کے ذریعے مصور کسی کہانی یا ناول کو کھینچی گئی تصویر کے ذریعے پہنچاتا ہے کیونکہ ہر تصویر کے پیچھے مختلف معنی ہوتے ہیں اور یہ فن عصری آرٹ کے ایک حصے میں سے ہے۔ اس آرٹ میں تصویر کے ہر حصے کا ایک مطلب ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا "میرے تمام فن پارے اظہار نفسیات ہیں، میں نے آسمان کے عناصر سے اپنے تمام فن پاروں کا ایک حصہ لیا، اس کی نفسیاتی کیفیت کا اظہار کیا، اور کس طرح میرے کام ہر اس شخص کے لیے اظہار ثابت ہوتا ہے جو جو اپنی زندگی میں مشکل وقت سے گزرتا ہے "

فخر اور اعزاز کے جذبات

انہوں نے مزید کہا کہ "واشنگٹن ڈی سی کی سب سے بڑی امریکی یونیورسٹیوں میں سے ایک میں فنون لطیفہ میں اپنی تعلیم کے ذریعے میں نے بہت کچھ سیکھا، ای وجہ سے میرے سپروائزر نے مجھے آرٹ کے مقابلوں میں حصہ لینے کی ترغیب دی، سپروائزر نے نمائشی کمیٹیوں کو میرے کام پیش کیے۔ وہ تصاویر میں عرب جہت دکھانے والے میرے کام کی ہمیشہ تعریف کرتے تھے۔‘‘

کہانی کا آغاز

احمد القادری نے اپنے آغاز کے بارے میں بتایا کہ وہ بچپن سے ہی فن کے شعبے میں دلچسپی رکھتے تھے اور درمیانی مرحلے میں انہوں نے فنون کے ماہر سے تعلیم حاصل کی تو فن کے شعبے سے ان کا شوق مزید بڑھ گیا اور انہوں نے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ یونی ورسٹی میں کئی شعبے موجود تھے تاہم آرٹ شے میری محبت نے مجھے اسی کے انتخاب تک پہنچا دیا۔ میں محسوس کرتا تھا کہ آرٹ ہی میرا کام ہے، یہی میرا مستقبل اور یہی میری زندگی ہے۔

فن کا پیغام

اسی تناظر میں انھوں نے کہا میرا فنی پیغام پوری دنیا کے لیے یہ ہے کہ فن ایک مشترکہ زبان ہے اور اس کے ذریعے ہم تمام لوگوں سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں