اسرائیل کے ساتھ مسلح فوجی مزاحمت کامخالف،مگرذہن تبدیل بھی کرسکتاہوں:محمودعباس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ مسلح فوجی مزاحمت کے خلاف ہیں، لیکن وہ کسی بھی وقت اس بارے میں’’اپنا ذہن تبدیل‘‘کر سکتے ہیں۔

انھوں نے یہ بات العربیہ سے خصوصی انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے کہاکہ’’میں کسی بھی لمحے اپنے ذہن کو تبدیل کرسکتا ہوں۔یقیناً ایسا ہو سکتا ہے کہ کل یا پرسوں یا کسی بھی وقت سب کچھ بدل سکتا ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ’’پُرامن عوامی مزاحمت حقیقی ہے لیکن جب دھکا دینے کے لیے دھکا آتا ہے، تو لوگ کچھ بھی کریں گے اورمیں فلسطینی عوام کو اس مرحلے تک پہنچانے اور ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کے خلاف انتباہ جاری کرتارہتا ہوں‘‘۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا انھوں نے فلسطینی اتھارٹی (پی اے) کو تحلیل کرنے کی دھمکی دی ہے، محمودعباس نے کہا کہ اس کوکبھی تحلیل نہیں کیا جائے گا، اس کا قیام کئی سال کی جدوجہد کے نتیجے میں عمل میں آیا تھا۔

ان کاکہنا تھاکہ’’ہم ایساکبھی نہیں کریں گے۔ہم نے اپنی کوششوں، اپنی جدوجہد اور اپنے شہیدوں سے فلسطینی اتھارٹی کی تعمیر کی‘‘۔

محمودعباس نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی برقراررہے گی اور فلسطینی ریاست موجود ہے۔ کوئی بھی ہمیں ایسا کرنے پرمجبورنہیں کرسکتا۔قابض اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کو تحلیل کرنے کے لیے اقدامات کر سکتا ہےلیکن فلسطینی اتھارٹی برقرار رہے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں