فلسطینی اتھارٹی کے زیر حراست ہلاک ہونے والےشخص کے خاندان کا بین الاقوامی عدالت سےرجوع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینیوں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن کی فلسطینی اتھارٹی کی حراست میں شہادت کے بعد خاندان نے بین الاقوامی عدالت انصاف سے رجوع کا اعلان کیا ہے ۔ تاکہ فلسطینیوں کے حقوق کے لیے سرگرم اس کارکن نزار بنات کے قتل کے ملزمان کو سامنے لایا جاسکے۔

بتایا گیا ہے کہ کسی فلسطی شہری کی فلسطینی اتھارٹی کی فورسز کے ہاتھوں شہادت کے بعد بین الااقوامی عدالت انصاف کے ساتھ اہل خانہ کا خود فلسطینی اتھارٹی کے خلاف یہ پہلا رابطہ ہے۔

نزار بنات کو فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے بلند آہنگ ناقدین میں شمار کیا جاتا تھا۔ ان کی شہادت جون 2021 میں اتھارٹی کی حراست کے دوران ہوئی تھی ۔ اتھارٹی اہلکاروں نے انہیں مغربی کنارے ان کے ہیبرون میں واقع گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔

ان کی ہلاکت کے بعد طبی معائنے سے ثابت ہوا تھا کہ ان کے سر اور جسم کے دوسرے حصوں میں آنے والی شدید چوٹیں ان کی زیر حراست موت کا باعث بنی تھیں۔ اسی سبب حراست کے محض چند گھنٹوں بعد ان کی موت واقع ہو گئی تھی۔

اب مرحوم بنات کے بھائی غسان بنات نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے سامنے یہ عرض داشت پیش کی ہے۔

غسان بنات کا کہنا تھا انصاف کے حوالے سے بین لاقوامی عدالت ان کے خاندان کی آخری امید ہے۔ اس معاملے میں انسانی حقوق کی تنظیموں بھی نزار بنات کے خاندان کے ساتھ ہیں ۔

تاہم فلسطینی اتھارٹی جس کی عمل داری ایک انتہائی محدود ہے نے فوری طور پر اس بارے میں اپنے کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا مطالبہ ہے کہ فلسطنی اتھارٹی کے جن حکام نے نزار بنات کی گرفتاری کا حکم دیا تھا ان کے خلاف مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔

واضح رہے سٹوک وائٹ نامی لا فرم کی طرف سے نزار بنات قتل کیس کے حوالے آئی سی سی کو بھجوائی گئی درخواست میں 14 مشکوک افراد کے نام شامل کیے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں