مقتول نزار بنات کےلواحقین کا فلسطینی اتھارٹی کے عہدے داروں کے خلاف مقدمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطین کے مقتول سماجی اور سیاسی کارکن نزار بنات کے اہل خانہ اور ان کے وکیل نےبتایا کہ انھوں نے بین الاقوامی فوجداری عدالت میں ایک مقدمہ دائر کیا ہے۔اس میں فلسطینی اتھارٹی کے سرکردہ حکام پر مقدمہ چلانے کی درخواست کی ہے۔ نزار بنات کو فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس پر تنقید کرنے پر اتھارٹی کے سکیورٹی حکام نے دوران حراست مبینہ طور پر تشدد کرکے مار ڈالا تھا۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت نے اسرائیل-فلسطینی تنازع کی تحقیقات کا آغاز کیا ہے جس میں غزہ میں 2014 کے تنازع اور 2018 کے "مارچ آف ریٹرن" کے مظاہروں کے دوران میں ہونے والے ممکنہ جنگی جرائم پر کچھ توجہ مرکوز کرنے کی توقع ہے۔

پہلا مطالبہ

نزار بنات خاندان کے وکیل ہاکان کاموز نے ’اے ایف پی‘ کو ایک خصوصی بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ یہ فلسطینی خاندان کی طرف سے کسی دوسری فلسطینی فریق کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت میں دائر کیا گیا "پہلا" مقدمہ ہے۔

لندن میں قائم قانونی فرم سٹوک وائٹ کے لیے کام کرنے والے کاموز نے کہاکہ فائل جمعرات کو عدالت میں جمع کرائی گئی ہے۔

نزار بنات کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی ویڈیوز کے لیے جانے جاتے تھے۔ انھوں نے محمودعباس کی سربراہی میں فلسطینی اتھارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور فلسطینی اتھارٹی پرکرپشن کے الزامات عاید کیے تھے۔

فلسطینی سکیورٹی فورسز نے جون 2021 میں بنات کو گرفتار کیا۔ گرفتاری کے چند گھنٹے بعد وہ مردہ پائے گئے تھے۔ اس وقت پوسٹ مارٹم کے انچارج فرانزک ڈاکٹر نے سر، سینے، گردن، ٹانگوں اور ہاتھوں پرتشدد کے نشانات کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ تشدد اور وفات کے درمیان صرف ایک گھنٹے کا وقفہ ہے۔

ان کی موت کے بعد سے مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں ان کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے بارہا احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جب کہ سرکاری تحقیقات میں ابھی تک کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔

گذشتہ ستمبر میں ایک فلسطینی عدالت نے سکیورٹی فورسز کے 14 ارکان پر فرد جرم عائد کی جنہوں نے کارکن بنات کی گرفتاری میں حصہ لیا۔ نزار کے بھائی غسان بنات نے کہا کہ جب ہم نے دیکھا کہ 14 افراد کو بغیر کسی وجہ کے رہا کیا گیا تو ہمیں معلوم ہوا کہ فلسطینی اتھارٹی کے نظام، پولیس اور سکیورٹی سروسز کو عدالت سے زیادہ اختیارات حاصل ہیں اور وہ انصاف سے بالاتر ہیں۔"

غسان بنات نے کہا کہ وہ اب بھی اپنے بھائی کو کھونے کے صدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی لیے ہم نے فائل کو بین الاقوامی میدان میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہم بین الاقوامی فوجداری عدالت سے انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں