ایرانی سنی عالم مولوی عبدالحمید نے مظاہرین کو پھانسیاں دینے کی مخالفت کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے معروف سنی عالم دین مولوی عبدالحمید نے ایران میں قید کیے گئے احتجاجی مظاہرین کی فوری رہائی اور مظاہرین کے لیے شروع کیا گیا پھانسیوں کا سلسلہ روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ جمعہ کے خطاب کر رہے تھے۔

مولوی عبدالحمید ایران کے جنوبی صوبے سیستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس صوبے میں بھی مسلسل احتجاج جا رہی اور متعدد افراد ان مظاہروں کے دوران مارے جا چکے ہیں جبکہ سینکڑوں گرفتار ہیں۔

خیال رہے ایمنسٹی انٹر نیشنل کا کہنا ہے کہ اس وقت فوری طور پر ممکنہ طور پر 26 ایرانی مظاہرین کو سزائے موت کا سامنا ہے۔ ایران میں سزائے سنانے کا یہ تازہ سلسلہ ایرانی کرد خاتون بائیس سالہ مہسا امینی کی پولیس حراست میں ہلاکت کے خلاف جاری احتجاج کی لہر کے بعد سامنے آئی ہے۔

سولہ ستمبر کو مہسا کی ہلاکت کے ساتھ ہی احتجاج شروع ہو گیا جو اب چوتھے ماہ میں داخل ہو چکا ہے۔ 1979 کے بعد سے اب تک ایرانی رجیم کو اتنے بڑے چیلنج کا کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔ جو مسلسل اور شدید تر مظاہروں کے نتیجے میں کرنا پڑ رہا ہے۔

مولوی عبدالحمید ایک بے باک خطیب ہیں اور مظاہرین کے حامی ہیں۔ انہوں کے مظاہرین کو سزائے موت دینے کے واقعات کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا بہت سے مظاہرین نوجوان اور نو عمر ہیں انہیں فوری رہا کر دیاجانا چاہیے۔ اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیے گئے خطاب میں انہوں نے کہا 'ہم ہمدردی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان نوجوانوں سب سے بڑی سزا یعنی موت کی سزا نہ دی جائے۔ نہ ہی انہوں نے کوئی ایسا جرم کیا ہے۔'

مولوی عبدالحمید نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ ان کے ساتھ سختی نہ کی جائے۔'قابل تصدیق فوٹیجز کے مطابق ان کے خطبہ جمعہ کے بعد مظاہرین نے زاہدان کی گلیوں اور سڑکوں پر سخت احتجاج کیا اور آزادی کے نعرے لگائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں