یورپی پابندیوں کی زد میں آنے والے ایرانی عالم یورپی یونین پر برس پڑے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے عالم دین احمد خاتمی جمعہ کے روز یورپی یونین پر برس پڑے۔ ان کے بقول 'یورپی یونین کا اپنا انسانی حقوق ریکارڈ سیاہ ترین ہے۔ 'انہوں نے یہ غصہ اس وقت دکھایا ہے جب حالیہ دنوں میں انہیں بھی پابندیوں کی زد میں لایا گیا ہے۔ خاتمی پر پیر کے روز پابندیاں لگائی گئی تھیں۔

یورپی یونین نے خاتمی کے علاوہ ایرانی نشریاتی ادارے 'آئی آر آئی بی' آرمی چیف عبدالرحیم موسوی اور ایرانی پاسدران کے کئی کمانڈروں پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔

پابندیوں کا یہ سلسلہ مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد مظاہرین پر تشدد کے واقعات کے رد عمل میں شروع کیا گیا ہے۔ اب تک سینکڑوں مظاہرین مارے جا چکے ہیں، سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت اس کے علاوہ ہے۔

احمد خاتمی پر پابندیاں لگائے جانے کی وجہ ان کے مظاہرین کے بارے میں خیالات بنے ہیں۔ جن کا وہ گاہے گاہے اظہار کرتے تھے۔ وہ اپنی تقریروں میں مظاہرین کے لیے سزائے موت کا مطالبہ بھی کرتے رہے ہیں۔

جمعہ کے روز اپنے خطبہ کے دوران انہوں نے کہا ' یورپی یونین کا انسانی حقوق کے حوالے سے اپنا ریکارڈ انتہائی سیاہ ہے اور وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں سب سے نمایاں ہے۔'

احمد خاتمی نے یورپی یونین کے بارے میں مزید کہا 'یورپی یونین امریکی نو آبادیاتی بن چکی ہے۔' اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ نے بھی یورپی یونین کی طرف سے پابندیاں لگائے جانے کے تازہ اعلان کی مذمت کی تھی۔

دوسری جانب اب تک ایرانی عدالتیں 11 مظاہرین کو سزائے موت سنا چکی ہیں، ان میں سے دو کو اسی ماہ پھانسی پر لٹکایا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں