اسرائیل نے انسانی حقوق کے فلسطینی وکیل حموری کو فرانس ڈیپورٹ کردیا

بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت جنگی جرم کا ارتکاب کیا گیا: حموری کی دفاعی مہم کا رد عمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزارت داخلہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آج اتوار کو اسرائیل نے فلسطینی نژاد فرانسیسی انسانی حقوق کے وکیل صلاح حموری کو ریاست کے خلاف سکیورٹی کی خلاف ورزیوں کے الزام میں ملک بدر کر دیا ہے۔

حموری کو اتوار کی صبح ایئرپورٹ لے جایا گیا جہاں وہ فرانس جانے والی پرواز میں سوار ہوئے۔ ان کی دفاعی مہم نے کہا کہ ان کے پاس اس سلسلے میں پیروی کرنے کا کوئی قانونی ذریعہ نہیں ہے۔

حکام نے یکم دسمبر کو یروشلم میں اسرائیلی شہریت نہ رکھنے والے 37 سالہ حموری کی رہائش گاہ منسوخ کر دی۔ اس پر پاپولر فرنٹ فار لبریشن آف فلسطین میں سرگرم ہونے کا الزام لگایا گیا ۔ پاپولر فرنٹ کی اسرائیل اور اس کے مغربی اتحادی "دہشت گرد گروپ" کے طور پر درجہ بندی کرتے ہیں۔

اسرائیلی وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اپنی زندگی کے دوران حموری نے شہریوں اور معروف اسرائیلی شخصیات کے خلاف تنہا اور تنظیم کے فائدے کے لیے دہشت گردانہ حملوں کو منظم کرنے کی حوصلہ افزائی اور منصوبہ بندی کی۔

حموری دفاعی مہم کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک بدری بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت جنگی جرم ہے ۔

حموری نے ایک بیان میں کہا کہ فلسطینی جہاں بھی جاتا ہے اپنی قوم کے مسئلہ کو ساتھ لے جاتا ہے۔ ہماری سڑک جہاں بھی ختم ہو اپنے وطن کو ہم اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔

اسرائیل نے حموری کو 7 مارچ سے 1 دسمبر تک بغیر کسی الزام کے حالیہ انتظامی حراست میں رکھا۔ اسرائیل نے ان کی رہائش گاہ منسوخ کر دی اور کہا کہ اسے ملک بدر کر دیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں