سعودی عرب: ناپیدی کے خطرے سے دوچار جانداروں کی بحالی کے سیزن کا آغاز

سعودی نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف ڈویلپمنٹ نے نے چار اقسام کے جانور نیوم ریزرو میں چھوڑ دئیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف ڈویلپمنٹ نے 2022 سے 2023 کے اس سیزن میں خطرے سے دو چار جنگی حیات کی چار اقسام کو نیوم ریزرو میں چھوڑ دیا۔ اس اقدام کا مقصد ناپید ی کے خطرے کی زد میں آنے والی جنگی حیات کی دوبارہ آباد کاری، ماحولیاتی نظام کی بحالی اور حیاتیاتی تنوع کو فروغ دینے کے سعودی پروگرام پر عمل کرنا تھا۔

ان چار انواع میں عربی اوریکس، آئی بیکس، ریت کے ہرن (الریم ہرن) اور پہاڑی ہرن (انسان) شامل ہیں۔ ان کے "نیوم ریزرو" میں چھوڑے جانے کا عمل سیزن کی پہلی لانچ کے طور پر سامنے آیا۔

یہ ان پروجیکٹس کے عزم کی حمایت کرنے کے لیے ایک بڑے پروجیکٹ کا پہلا آغاز بھی ہے جو ماحولیات کے تحفظ اور اسے برقرار رکھنے اور ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور بحالی کے لیے سائنسی طریقہ کار کو لاگو کرتا ہے۔

پچھلے سیزن میں مرکز نے 12 سو سے زیادہ خطرے سے دوچار جانداروں کو جنگلات اور مناسب ماحول میں چھوڑا تھا۔ حیاتیات کے قدرتی ماحول میں بہت سے نئے پیدا ہونے والے جانوروں کی نگرانی کی، اس طرح افزائش نسل اور آبادکاری کے پروگراموں کی کامیابی کی جانب قدم رکھ دیا گیا۔

نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف ڈویلپمنٹ کے سی ای او ڈاکٹر محمد قربان نے اس موقع پر کہا کہ ’’نیوم‘‘ کے ساتھ ہماری شراکت جنگلی جانوروں کی واپسی کے قومی پروگرام کے فریم ورک کے اندر آتی ہے ۔ ا س پروگرام کا مقصد خطرے سے دوچار مقامی نسلوں کو ان کے قدرتی رہائش گاہوں میں واپس لانا ہے۔ یہ "سعودی گرین" کے اقدامات میں سے ایک ہے اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے قومی حکمت عملی کے نفاذ کے لیے آتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس مرکز کے پاس بین الاقوامی مراکز میں سب سے زیادہ مراکز ہیں جو خطرے سے دوچار انواع کو پھیلانے اور انہیں ان کے قدرتی ماحول میں انتہائی درست بین الاقوامی معیارات کے مطابق منتقل کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں