عصمت دری اور ہراسیت: جیلوں میں ایرانی خواتین دونوں کا شکار

احتجاج کی قیادت کرنے والی ایک 20 سالہ خاتون کو گرفتاری کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا گیا : امریکی رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکہ کی جانب سے ایرانی حکومت کی جانب سے اپنے عوام کیخلاف سنگین جرائم خاص طور پر حالیہ مہینوں میں جاری احتجاجی تحریک کے دوران ان جرائم میں اضافے پر ایک رپورٹ پیش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جیلوں میں قید ایرانی خواتین عصمت دری اور ہراسیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

’’حجاب کے نفاذ کیلئے ایرانی حکومت کا جیلوں میں خواتین کو ہراسا ں کرنا‘‘ کے عنوان سے جاری رپورٹ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے شائع کی۔ رپورٹ میں ایرانی خواتین قیدیوں کے خلاف جنسی زیادتی کے واقعات کا انکشاف کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی حکومت کے اہلکار خواتین قیدیوں کے ساتھ غیر اخلاقی حرکتیں کر رہے ہیں۔ .

عصمت دری اور قتل کے ثبوت

رپورٹ کے مطابق ایک 20 سالہ خاتون کو احتجاج کی قیادت کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور پھر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ پھر خون بہہ جانے کی وجہ سے اسے کرج کے ایک ہسپتال میں منتقل کیا گیا تھا ۔ پھر اسے دوبارہ جیل میں بند کر دیا گیا۔

رپورٹ میں ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی دستاویز کی موجودگی کی بھی بطور ثبوت نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ دستاویز ایران میں خواتین مظاہرین کے خلاف ہراساں کیے جانے اور عصمت دری کے واقعات کی تصدیق کرتی ہیں۔

مظاہروں کے باعث حالات خطرناک ہیں: ایرانی حکومت کا اعتراف

دوسری جانب ایرانی انسانی حقوق کی مہم کے ڈائریکٹر ہادی غیمی نے وضاحت کی ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے تہران میں معصومہ نامی ایک 14 سالہ لڑکی کو سکول میں نقاب اتارنے پر گرفتار کیا اور پھر اسے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ اس کی عصمت دری کرنے کے بعد اور اس کی موت سے پہلے شدید خون بہہ رہا تھا۔ اہلکار نے تصدیق کی کہ متاثرہ کی موت ہو گئی جبکہ اس کی ماں نے اپنی بیٹی کی کہانی سنانے کا فیصلہ کیا ہے اور اب وہ غائب ہو گئی ہے۔

بھتہ خوری کے لیے زیادتی کی فلم بندی

خیال رہے کہ امریکی رپورٹ میں متاثرین کے شرم اور خوف کے جذبات کی وجہ سے ایرانی خواتین کے خلاف جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی تمام رپورٹس کی تصدیق کرنے میں دشواری کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ تاہم "سی این این" کی ایک اور رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حکام بعض اوقات خواتین کی عصمت دری کی فلمیں بناتے ہیں اور خواتین مظاہرین نے انہیں خاموش رہنے پر مجبور کیا۔

یاد رہے حجاب نہ لینے پر ایرانی اخلاقی پولیس کے ہاتھوں مہسا امینی کی گرفتاری اور پھر دوران حراست ہی 16 ستمبر کو موت کے بعد سے ایران میں احتجاجی تحریک برپا ہے۔ ایرانی حکمران پرتشدد طریقوں سے مظاہروں کو دبانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن احتجاجی مظاہرے اپنے چوتھے مہینے میں داخل ہوچکے ہیں۔ سینکڑوں مظاہرین کو قتل کیا جا چکا، ہزاروں کو گرفتار یا ان کے خلاف مقدمات قائم کئے گئے ہیں۔ اب تک دو احتجاجی کارکنوں کو پھانسی بھی دی جا چکی ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے ایرانی حکومت کے پر تشدد ہتھکنڈوں کی شدید مذمت بھی جاری ہے تاہم اس کا زیادہ فائدہ ہوتا نظر نہیں آرہا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں