اسرائیلی جیل میں قید الاقصیٰ شہداء بریگیڈ کے سینیررہ نما کا کینسرسے انتقال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کی ایک جیل میں قید فلسطین کی مزاحمتی تنظیم الاقصیٰ شہداء بریگیڈ کے سینیر رہ نما کینسر کے سبب منگل کے روزوفات پاگئے ہیں۔

اسرائیل کی عدالت نے الاقصیٰ شہداء بریگیڈ کے شریک بانی ناصرابوحمید کوکئی مرتبہ عمرقید کی سزاسنائی تھی۔فلسطینی صدر محمودعباس نے اقوام متحدہ میں اپنی ایک حالیہ تقریر میں بھی ان کا ذکر کیا تھا۔وہ 2002 سے اسرائیلی جیل میں قید تھے۔

اسرائیلی عدالت نے انھیں سات اسرائیلیوں کو قتل کرنے اوردیگرحملوں کی منصوبہ بندی کرنے کا مجرم قرار دیاتھا۔ اسرائیل اورمغرب میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم الاقصیٰ شہداء بریگیڈکو ایک دہشت گرد گروہ سمجھاجاتا ہے۔

فلسطین کی سرکاری خبررساں ایجنسی وفا کے مطابق صدرمحمودعباس نے اسرائیل پرابوحمید کی طبّی ضروریات کونظراندازکرنے کا الزام عاید کیا ہےاور اسے ان کی موت کا ذمہ دار قراردیا ہے۔

اسرائیل کی جیل سروس کا کہنا ہے کہ 50 سالہ ابو حمیدپھیپھڑوں کے سرطان میں مبتلا تھے اور ان کا’مسلسل علاج' کیا گیا تھا۔

متوفیٰ ابوحمیدکی والدہ نے وائس آف فلسطین ریڈیو کوبتایا کہ ان کا بیٹاکوما میں چلا گیا تھا اور اس کے بعد جیل سروس نے پیر کے روزمحافظوں کی موجودگی میں ان کے اہل خانہ کو ان سے ملنے کی اجازت دی تھی۔

فلسطینی والدہ نے اس بات پر بھی اللہ کا شکرادا کیا کہ ’’وہ اور ابوحمیدکے بھائی ان سے ملنے اوروفات سے قبل انھیں الوداع کہنے میں کامیاب ہوئے ہیں‘‘۔انھوں نے امید ظاہرکی کہ ’’اسرائیلی حکام میرے مرحوم بیٹے کی نعش تدفین کے لیے جلد ہمارے حوالے کردیں گے‘‘۔

فلسطینی صدرمحمود عباس نے ستمبرمیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ’’فلسطینی بہادرقیدی ناصرابوحمید اوران کے ساتھیوں سے کَہ رہے ہیں کہ صبح ہونے والی ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ ان کی زنجیریں توڑدی جائیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں