سعودی عرب: گاڑی میں جلائے گئے شخص کا قاتل اس کا دوست تھا

مقتول کہتا رہا ’’کیا ہوگیا میں تو تمہارا دوست ہوں‘‘ ، یہ ہماری اقدار نہیں: مقتول کے والد کا احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی شہری کو اس کی گاڑی میں جلائے جانے کی کہانی نے سعودی گلیوں میں غم پھیلا دیا ہے۔ جلائے جانے والے شہری کی چیخوں پر مبنی ویڈیو کو دیکھ کر سوشل میڈیا پر قاتل کے لئے سخت سزا کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ ’’بندر القرھدی‘‘ ٹرینڈ کر رہا ہے۔

مقتول کے والد ایک گردش کرنے والی ویڈیو میں مجرموں سے سوال پوچھ رہے ہیں

پوچھتے ہوئے، "میں وہی ہوں جو میں ہوں"، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ رویہ ہماری اقدار اور اصولوں کے خلاف ہے، اور یہ شرمناک اور عیب دار رویہ ہے کہ آپ سے مطمئن نہیں ہوں گے۔

سوشل میڈیا کے علمبرداروں نے جدہ گورنری کے محلے جنوبی الاسکان کی ایک پارکنگ میں گاڑی کے اندر جلائے گئے شخص کی موت کی نئی تفصیلات شیئر کی ہیں اور بتایا ہے کہ مقتول کو اس کے دوست نے جلایاہے۔ مقتول کی عمر 40 سال تھی اور وہ دو بیٹوں کا باپ اور ایئر ہوسٹ تھا۔ دونوں بچپن کے دوست تھے اور ایک ہی محلہ میں رہتے تھے ۔ مقتول کو اس کے بچپن کے دوست نے دھوکہ سے قتل کیا۔

ایک ویڈیو کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ متاثرہ شخص نے اپنی کار سے باہر نکل کر عوامی سڑک کی طرف جانے کی کوشش کی تھی اور وہ اونچی آواز میں کہ رہا تھا ’’ میں تمہارا بھائی ہوں‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں