عربی زبان بولنے والا ہر شخص عرب ہے، ماہر زبان و ادب عبداللہ الغثامی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سعودی عرب کے ممتاز ادبی و لسانی ماہر اور نقاد عبداللہ الغثامی نے کہا زبان انسانون کو جوڑنے اور ان میں ہم آہنگی پیدا کرنے کا کام کرتی ہے۔ جب ہم ایک زبان سیکھتے اور جانتے ہیں تو اس زبان کے بولنے والوں کے بارے میں جانتے ہیں۔ یہ ہر طرح کی سرحدوں سے ماورا تعلق قائم کرتی ہے۔

قوم پرستی اور مذہبی سے ماورا رابطہ ہوتا ہے۔ زبان کی شناسائی اور تعلق مخالفانہ جارحیت نہیں دو طرفہ ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔ زبان افراد کو قریب لاتی ہے۔ بہت سے اختلافات کی دنیا میں یہ باہمی اتفاق کی تخلیق کرتی ہے۔ اس لیے میں کہتا ہوں جو کوئی بھی عرب زبان بولتا ہے وہ عرب ہے۔

عبداللہ الغثامی امارات میں زبان اور شناخت کے موضوع پر ایک ثقافتی سیشن سے خطاب کر رہے تھے۔ یہ سیشن عربی زبان سے متعلق کانفرنس کے پہلے روز منگل کو امارات کی وزارت ثقافت و شباب اور ابو ظہبی عربی زبان مرکز کے تحت منعقد کیا گیا ۔

عربی زبان کے بارے میں یہ دو روزہ کانفرنس' منارات السعدیات میں منعقد ہوا، جس میں دنیا بھر سے آئے ہوئے 30 سے زائد دانشوروں اور ماہرین ادب و ثقافت نے شرکت کی۔

سیشن کی نظامت کے فرائض سماح العبار نے انجام دیے۔ جبکہ عبداللہ الغثامی نے' زبان اور شناخت کی تشکیل ' کے موضوع پر روشنی ڈالی۔ زبان اور شناخت کےحوالے سے گفتگو کے دوران انہوں نے سماجی شناخت کی تشکیل میں زبان کے کردار کے بارے میں کہا یہ زبان نے بہت سی تہذیبوں کی آغوش کے طور پر کام کیا ہے۔

شناخت کی اصطلاح کے بارے میں گفتگو سے پہلے عبداللہ الغثامی کا کہنا تھا' ہمیں پہلے شناخت کے معنی اور اس کی اصل کے بارے میں جاننا ہو گا۔ قدیم عربی میں شناخت ایک گہرے کنویں کو کہا گیا ہے۔ 'یہ گہرے کنویں کے معنی انتہائی گہرائی کے ساتھ ساتھ جڑوں کا اشارہ دیتے ہیں۔'

اس لیے جب بھی عربی زبان کی ترقی کی بات ہوتی ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ یہ ہمیں اس کے ماضی اور اپنے ماضی کی طرف جانا ہوتا ہے۔ ہمیں ماضی، پیشرووں اور ان کی اصل ضمیر کی طرف لے جاتا ہے۔ الفاظ ہمارے ذہن میں سرایت کرنے لگتے ہیں ۔ جب ہم زبان کو کنوین کے طور دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ احساس ہوتا ہے یہ ایسا کنواں یا ندی ہے جو خشک نہیں بلکہ رواں ہے، ایک دریا کی طرح رواں دیکھتے ہیں۔

الغثامی نے مزید کہا ' ہماری زبان بہت خوبصورت ہے۔ یہ کمزوریوں سے عبارت نہیں بلکہ کمزوریوں سے پاک اور ایک کامل زبان ہے۔ اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ دو سو سال پہلے امریکہ نے انگریزی زبان کو اپنا تھا تھا۔ اگر امریکہ نے عربی زبان کو اپنے لیے منتخب ہوتا تو آج دنیا زبان عربی بن چکی ہوتی۔

ایک بڑے ملک کی طرف سے زبان کو اختیار کرنے کے نتیجے میں وہ ٹیکنالوجی ، کمیونیکیشن کی زبان بن چکی ہے۔ چونکہ وہ ملک ٹیکنالوجی اور کمیونیکیشن میں ترقی یافتہ ہے اس لیے اس کی زبان دنیا بھر کی زبان بن گئی ہے۔یہی ضرورت اس عربی زبان کے لیے ہے۔ زبان ابللاغ میں بہت اہم کردار ادا کری ہے۔ کوئی بھی صرف اس لیے ہماری عربی زبان نہیں سیکھے گا کہ یہ خوبصورت زبان ہے۔ اس کے لوازمات دیگر بھی ہیں۔

افتتاحی سیشن

کانفرنس کے افتتاحی سیشن کے دوران متحدہ عرب امارات کی وزیر برائے ثقافتی امور و نوجوانان نورا بنت محمد الکعبی نے کہا مختلف ثقافتی حکام امارات میں عربی زبان کے تحفظ و ترقی کے لیے کوشاں ہیں۔ عربی زبان کے لیے کوششیں ہماری قومی ترجیح کا حصہ ہیں۔ زبان سے کمٹمنٹ ہماری قیادت کے ویثن کا حصہ ہے۔ ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ عربی زبان انسانوں کے لیے علم کا خزانہ ہے۔

وزیر ثقافت نے کہا ' متحدہ عرب امارات میں عربی زبان کا مرکز بننے کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔ اسی ہدف کے پیش نظر 2012 میں عربی ایڈوائزریی بورڈ قائم کیا گیا، 2021 میں عربی زبان کے مستقبل کے بارے میں رپورٹ پیش کی گئی، اس سے قبل ایکسپو 2020 میں عربی زبان کی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس میں 22 عرب ممالک کے نمائندوں نے شرکت ک ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں