عربی زبان کے عالمی دن پر ’’اثرا‘‘ نے قصیدہ گوئی کی شعری صنف ’’ موشحات ‘‘ کو زندہ کردی

"اثرا" کے تحت ایک مکالمہ سیشن میں ’’موشحات‘‘ کے جدید ورژن کو پیش کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

چیلنج کے جذبے اور علم کی تلاش میں مقابلہ کرنے والوں نے اندلس کے موشحات میں حصہ لیا ۔ ان موشحات کو کنگ عبدالعزیز سنٹر فار ورلڈ کلچر (اثرا) نے عربی زبان کے عالمی دن کی یاد میں بحال کیا تھا۔ ’’چیلنج سفر کرتا ہے‘‘ کے عنوان سے تقریب میں بہت سے خاندان اور دلچسپی رکھنے والے لوگ موجود تھے۔ اس سرگرمی میں مد مقابل متعدد مقامات پر جاتا ہے۔ کئی سوالات اور لسانی ڈھانچوں کے ذریعہ آخری منزل تک پہنچنا ہدف ہوتا ہے۔ اس تقریب میں دیگر سرگرمیاں بھی بھی موجود تھیں جنہوں نے آنے والوں کو مشاعرے کی دنیا کا سفر کرایا اور ایک ادبی ماحول پیدا کردیا۔ تقریب میں شعری صنف ’’موشحہ ‘‘ کے آغاز اور تشکیل پر بھی روشنی ڈالی گئی۔

ادبی میراث

چونکہ موشحات طویل تاریخ سے ایک ادبی ورثہ رہے ہیں اس لئے ’’ اثرا‘‘ کی طرف سے منعقد تقریب کا دورانیہ بھی تین دن طویل رہا۔ اس میں تقریب میں ’’موشحات آغاز سے تعمیر تک‘‘ کے عنوان سے ایک مکالمہ بھی شامل کیا گیا۔ مکالمہ کے شرکا نے واضح کیا کہ موشحات کے ابتدا کیسے ہوئی اس کا اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکا۔ محقق اور مفکر ڈاکٹر عبد اللہ ابراہیم نے بتایا کہ موشحات کی ابتداء سے متعلق قدیم اور جدید مفکرین نے غور کیا ہے ۔ لیکن وہ اپنی اصل کے 3 نظریات پر انحصار کرتے تھے۔ موشحہ کا فن موجودہ دور میں معاشرے کے مظاہر اور حالات کی نمائندگی کرنے سے قاصر ہونے کی وجہ سے غور و فکر سے دستبردار ہو گیا ۔ موشحہ کا اطلاق ایک مقام پر بیٹھ کر کی جانے والی گفتگو سے ہے جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ان قدیم فنون کا احیاء ادب کو فروغ دینے میں معاون ہے۔ انہوں نے کہا یہ فن عرب ثقافت کے سنہری دور کا احاطہ کرتا ہے۔

عربی موشحات

مفکر نے وضاحت کی کہ معروف عربی موشحات کی تعداد 500 تک پہنچ جاتی ہے، جبکہ مقامات کی تعداد 2500 تک پہنچ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادب ایک دوسرے سے کوئی الگ الگ جزیرے نہیں ہوتے ۔

عربی ادب اندلس سے جزیرہ نما عرب اور عراق اور مراکش تک پھیلا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ رائے کہ عربی ادب کو دوسروں پر اثر انداز ہونا چاہیے اتنی درست نہیں۔ صدیوں سے ہمارے ذہنوں پر بادل چھائے ہوئے ہیں اور اسے اب ختم ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا ثقافتی ماحول متاثر کرتا بھی ہے اور متاثر ہوتا بھی ہے۔

مصنف اور کنگ خالد یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد العمری نے کہا کہ نظم اور عربی شاعری عرب ثقافت کے اہم پہلوؤں میں سے ایک ہیں۔ پس عربی زبان کے انتھالوجی بھی متنوع ہے۔ فصیح شاعری کا مقابلہ دوسری قسم کی شاعری سے نہیں ہے۔ موشحات کی بنیاد حکایات پر ہے اور دیگر کی شاعری پر ۔ موشحات نے ایک ہزار سال سے زائد عرصے تک عرب اور غیر عرب معاشرے کا خیال رکھا ہے۔ اس سیشن میں لگ بھگ دو گھنٹے تک بات چیت جاری رہی ۔ اس میں اہم بات یہ کی گئی کہ موشحات کی تفصیلات تک رسائی کیسے حاصل کی جائے ۔ بعض لوگ موشحہ کو ایسے قصیدے قرار دیتے جو محفلوں میں اس لئے پڑھے جاتے ہیں کیونکہ یہ بہت فصیح و بلیغ ہوتے ہیں اور ان میں ایک وزن اور قافیہ کی قید نہیں ہوتی ۔ زیادہ تر ان قصیدوں کو تعریف، اظہار فخر کیلئے پڑھا جاتا ہے۔

سنسنی اور جذبہ

’’اثرا‘‘ کے زیر اہتمام اس تقریب کی تمام سرگرمیوں میں سسپنس اور جذبہ کا عنصر غالب رہا۔ اس تقریب میں بچوں کیلئے انٹرایکٹو سرگرمیاں بھی تھیں۔ ان سرگرمیوں میں ’’نقطہ کے بغیر الفاظ‘‘ بھی شامل تھی۔ ایک سرگرمی ’’ چیلنج سفر کرتا ہے‘‘بھی تھی۔

اس سرگرمی میں غرناطہ کی دیواروں پر لکھی گئی نظموں سے متعلق سوال پوچھے گئے۔ دوسرے چیلنج میں مشاعروں اور ان میں اشعار کہنے والے شاعروں پر سوالات پوچھے گئے۔ مقابلے کرنے والے کیلئے الیکٹرانک سکرین پر جانا بھی ممکن تھا۔ تقریب میں عربی خطاطی کے نمونے بھی پیش کئے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں