’جوان بیٹے کا قتل بدترین ظلم، اللہ ایسا دکھ کسی باپ کو نہ دے‘

دوست کے ہاتھوں قتل سعودی شہری کے دکھی والد کی العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جدہ میں اپنے بچپن کے دوست کے ہاتھوں غداری کے ساتھ قتل ہونے والے بندر القرھدی کے والد نے درد، شکستہ دلی اور نم آنکھوں کے ساتھ اپنے بیٹے کے کھو جانے پر اپنے شدید دکھ اور غم کا اظہار کیا ہے۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتےہوئے مقتول بندرالقرھدی کے والد نےطہ القرھدی نے کہا کہ بیٹا ابھی کھانا کھانے بیٹھا ہی تھا کہ اس کے دوست نے اسے بلایا۔ وہ کھانا چھوڑ کر وہاں سے باہر گیا تاکہ وہ دوست کوبلائے مگراس کے دوست نے میڑے بیٹے کو دھوکہ دیا اور بغیر کسی جرم کےمیرےکو اس کی گاڑی میں زندہ جلا کر مار دیا۔

ہیمبرگر اور شوارما کھانا

تفصیلات کے مطابق طحہٰ القرھدی نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ "میرا بیٹا بندر میرے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتا تھا میں اس سے آخری بار اس کے جانے اور اس کی موت سے پہلے ملا تھا۔ اس کی موت سے چند لمحے قبل ہم اکٹھے بیٹھے اور کھانے کی تیاری کرنے لگے۔ کھانے میں ہیمبرگر اور شوارما تھا مگر وہ کھانا چھوڑ کراسے دوست سےملنے گیا۔ بدقسمتی سے وہ اسے لینے کے لیے واپس نہیں آیا تھا کیونکہ اس کے دوست کے ہاتھوں اس کو قتل کردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ"میرا بیٹا، بندراپنی مہربانی، اچھے سلوک اور اپنے والدین کا فرمانبردار بیٹا تھا۔ منظوری کے لیے جانا جاتا تھا۔ وہ 20 سال سے سعودی ایئر لائنز کے لیے کام کر رہا تھا۔ وہ صرف مہربانی اور حسن سلوک کے لیے جانا جاتا تھا۔ اس کی پرورش اچھے اخلاق، دوسروں کے ساتھ حسن سلوک اور نیکی کی محبت پر کی تھی۔"

بندر کے 2 بیٹے ہیں

جوان بیٹے کی موت کے صدمے سے نڈھال طہ القرھدی نے کہا کہ قاتل لڑکا ان کے بیٹے کا بچپن کا دوست ہے اور وہ دونوں ایک ہی جگہ کام کرتےتھے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں قتل وغارت گری اور اس طرح کے واقعات کم ہی ہوتے ہیں۔ ہماری اسلامی تعلیمات ، رسوم و روایات میں ہمیں ایسے واقعات کی حوصلہ شکنی ملتی ہے۔

اسلام کی تعلیمات اور مستند اور اعلیٰ رسوم و روایات، اور جو ہم نے پہلے ایک زندہ شخص کو جلانے کے بارے میں سنا ہے۔ میرا نہیں خیال کہ ہمارے معاشرے میں کسی کو زندہ جلانے کے واقعات ہوتے ہوں گے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا دکھ کسی اور ماں باپ کو نہ دکھائے جو مجھے دیکھنا پڑتا ہے۔ انہوں نے مقتول بیٹے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرےمقتول بیٹے کی تصاویر اور ویڈیوز انٹرنیٹ پر پوسٹ نہ کی جائیں۔

خیال رہے کہ بندر القرھدی نے کو حال ہی میں اس کی کار میں آگ لگا کرزندہ جلا دیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد مقتول کا خاندان شدید صدمے میں ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے علمبرداروں نے بندر القرھدی کے معاملے پر سوگوار خاندان سے اپنی ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس افسوس ناک واقعے نے سعودی معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں