ایران: احتجاج میں حصہ لینے پر 16 سالہ لڑکی کو 6 ماہ قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے جنوب مشرقی شہر زاہدان کی ایک عدالت نے 16 سالہ لڑکی نازنین احمدی کو مظاہروں میں حصہ لینے کے ساتھ ساتھ "حکومت کے خلاف پروپیگنڈا" کے الزام میں 6 ماہ قید کی سزا سنا دی ہے۔

’’ایران انٹرنیشنل ‘‘ کے مطابق میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں سیکورٹی حکام نے یونیورسٹی کے طالب علم علی مرزا پور کو مشرقی آذربائیجان صوبے میں گرفتار کر کے ملک کے شمال مغرب میں واقع تبریز جیل منتقل کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ 16 ستمبر سے خاتون مہسا امینی کی پولیس حراست میں موت کے بعد سے ایران میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

اسی احتجاج کے تناظر میں تہران سے آنے والے ویڈیو کلپس میں دکھایا گیا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ بسوں میں سوار شہریوں نے ایک بس کی نشستوں پر حکومت مخالف نعرے لکھے ہیں۔ تحریروں میں خامنہ ای اور بسیج کے خلاف نعرے شامل تھے۔

تین ماہ سےزیادہ عرصہ سے جاری اس احتجاجی تحریک کو مختلف ممالک کے سیاست دانوں اور سول کارکنوں کی جانب سے وسیع عالمی حمایت حاصل ہوئی ہے ۔ دنیا بھر میں ایرانیوں نے یکجہتی کے لیے اپنے اجتماعات کا انعقاد جاری رکھا ہوا ہے۔ عالمی برادری نے مظاہرین میں سے بعض کو پھانسی دینے کی شدید مذمت کی ہے۔

ایرانی حکومت کی پرتشدد کارروائیوں کے باوجود ’’زن، زندگی، آزادی‘‘ کے نعرہ کے تحت شروع ہونے والے مظاہروں کا سلسلہ تھم نہیں سکا ہے۔

161 ایرانی شہروں میں مظاہرے کئے گئے اور درجنوں بچوں اور خواتین سمیت کم از کم 460 مظاہرین مارے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق تقریبا 20 ہزار افراد کو گرفتار کیا جا چکا۔ 41 احتجاجی کارکنوں کو موت کی سزا سنائی جا چکی جن میں سے دو کی سزا پر عمل کرتے ہوئے انہیں پھانسی دے دی گئی ہے۔ سزائے موت پر عمل درآمد کے بعد سے ایران کے خلاف بین الاقوامی غم و غصہ کی لہر دو ڑ گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں