مشہور فٹ بال کھلاڑی سمیت 43 ایرانیوں کو پھانسی کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سی این این کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق ایران میں مشہور فٹ بال کھلاڑی امیر ناصر آزادانی سمیت 43 افراد کو جلد ہی سزائے موت کا سامنا ہے۔

جمعہ کو ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس نے یہ معلومات ایرانی انسانی حقوق کے گروپ کے تعاون سے ملک کے اندر سے دستاویزات، ویڈیو کلپس، گواہوں کی شہادتوں اور بیانات کی جانچ پڑتال کے بعد حاصل کی ہیں۔

نیٹ ورک نے کہا کہ گواہوں کی شہادتیں اور سرکاری دستاویزات ،جو اس نے دیکھی ہیں، سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایران مظاہرین کے خلاف مقدمات کی سماعت تیز کر رہا ہے، اور بعض الزامات پر فیصلے اکثر ایک سیشن میں جاری کئے جارہے ہیں۔

کم از کم دو افراد کو پھانسی دی جا چکی

ایرانی حکام نے گزشتہ ماہ ایران میں ہونے والے مظاہروں کے سلسلے میں کم از کم دو افراد کو پھانسی دی، جن میں سے ایک کو سرعام پھانسی دے دی گئی۔

قابل ذکر ہے کہ ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم نے گزشتہ ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ ستمبر کے وسط میں شروع ہونے والے مظاہروں کے بعد سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں ہونے والے مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 469 ہو گئی ہے۔تنظیم نے کہا کہ مرنے والوں کی تعداد میں 63 بچے اور 32 خواتین شامل ہیں ۔

امینی کی موت

تہران میں 16 ستمبر کو ایران کے کرد علاقے سے تعلق رکھنے والی نوجوان خاتون 22 سالہ مہسا امینی کی موت کے بعد سے احتجاجی تحریک شروع ہے۔

ان مظاہروں کو 1979 کے انقلاب کے بعد حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔ اس تحریک کے دوران سینکڑوں افراد کو ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں