سرکاری مراعات کے لئے فرضی اماراتی شہری بھرتی کرنے والی کمپنی کا ڈائریکٹر گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

متحدہ عرب امارات کے محکمہ پبلک پراسیکیوشن نے ایک پرائیویٹ کمپنی کے ڈائریکٹر کو حراست میں لینے کا حکم دیا ہے۔ مشتبہ ڈائریکٹر پر یہ الزام ثابت ہو گیا تھا کہ انہوں نے حکومتی فوائد حاصل کرنے کے لالچ میں بڑی تعداد میں اماراتی شہریوں کو اپنے ہاں جعلی ملازمتیں دے رکھی تھیں۔

یو اے ای کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’’وام’’ کے مطابق گرفتار کیے جانے والے مشتبہ ڈائریکٹر نے جعلی ای دستاویزات، ملازمت کے معاہدے بنا کر غلط بیانی کی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس نے اماراتی شہریوں کو اپنی کمپنی میں ملازمتیں دے رکھی ہیں۔ اس جعل سازی کا مقصد حکومت سے مختلف مدات میں مالی امداد اور اماراتی شہریوں کو جاب دینے کے عوض دوسرے سرکاری فوائد سمیٹنا تھا۔

تفصیلات کے مطابق گرفتار ہونے والے ڈائریکٹر نے اس مقصد کے لیے جعلی کمپنی کے ڈائریکٹر نے اماراتی حکومت کے جاری کردہ nafis پروگرام کا سہارا لیا جس میں اگلے پانچ برسوں تک اماراتی شہریوں کو ملازمت دینے والی نجی کمپنیوں کو حکومت فوائد اور مراعات کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔

مذکورہ پروگرام کے تحت اماراتیوں کو ملازمتیں دینے والی نجی کمپنیوں کو تن خواہوں کی ادائیگی میں اعانت، بے روزگاری فوائد اور دوران ملازمت تربیت کے مواقع فراہمی جیسے فوائد کا حق دار قرار دیا گیا ہے۔

امارات پراسکیوشن کو اس فراڈ کارروائی سے متعلق اطلاع ملی تھی۔ ایمریٹائزیشن اور انسانی وسائل کی وزارت نے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا جس میں یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ نجی کمپنی کے ڈائریکٹر نے مذکورہ بالا جرائم کا ارتکاب کرتے ہوئے اپنی کمپنی میں چالیس فرضی اماراتی شہری کو بھرتی کیا۔ اس کارروائی میں اسے کمپنی کے دوسرے ملازمین کی معاونت بھی حاصل تھی۔

اٹارنی جنرل نے متعلقہ نجی شعبے کے حکام پر زور دیا کہ وہ اماراتی کیڈر کی صلاحیتوں میں اضافے اور معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں