ایرانی سپریم کورٹ کا احتجاج کا حصہ بننے والے شہری کی سزائے موت برقرار رکھنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی سپریم کورٹ نے مظاہرے میں حصہ لینے والے ایک شہری کے لیے سنائی گئی سزائے موت کو برقرار رکھنے کا حکم دے دیا ہے۔ سرکاری میڈیا نے اس سے قبل ہفتے کے روز یہ رپورٹ کیا تھا کہ احجتاج کرنے کے جرم میں موت کا حق دار ٹھہرائے گئے شہری کی اپیل منظور کر لی گئی ہے۔

تاہم نیم سرکاری خبر رساں ادارے ' تسنیم ' کی رپورٹ کے مطابق بعد ازاں سپریم کورٹ نے اپنے ترمیمی فیصلے میں محمد غبادلو اور سمان سیدی نام کے جن دو احتجاجیوں کو سزائے موت سنائی گئی تھی ان میں محمد غبادلو کی اپیل مسترد کر دی گئی ہے۔

مظاہرین کے ایک سرگرم گروپ 1500 تصویر نے ٹویٹ کیا ہے کہ بائیس سالہ شہری کی زندگی سخت خطرے میں ہے ۔ واضح رہے ایران میں اس سے پہلے بھی دو مظاہرین محسن شکاری اور مجید رضا کو پھانسی دی جا چکی ہے۔ ان دونوں کی عمر 23 سال تھی اور دونوں کو اسی ماہ کے شروع میں پھانسی پر لٹکایا گیا تھا۔

اوسلو میں قائم ایک انسانی حقوق گروپ نے بتیا ہے کہ اس وقت کم از کم 39 ایرانی مظاہرین کو سزائے موت کا خطرہ ہے۔ کیونکہ ایرانی حکومت نے احتجاج کو فساد قرار دے دیا ہے۔

ایران میں احتجاج کا یہ سلسلہ 22 سالہ مہسا امینی ایک کرد ایرانی شہری کی پولیس حراست میں موت سے شروع ہواتھا۔ مظاہروں کا یہ پر شدت سلسلہ 1979 کے بعد ایران میں پہلی بار دیکھا گیا ہے

اب تک حکومت ہزاروں مظاہرین کو گرفتار کر چکی ہے اور چار سو سے زائد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان ہلاک شدگان میں 63 بچے اور 32 خواتین بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں