ایران

ایرانی ڈاکٹر کو بسیج رکن کی مدد کے باوجود پھانسی کا سامنا

ایرانی حکومت فلمی اداکاروں پر مسلسل دباؤ ڈال رہی، لگ بھگ 50 سینما نگار جیلوں میں بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایک ایرانی ڈاکٹر کو پھانسی کا سامنا ہے حالانکہ اس نے ایرانی عدلیہ کے احتجاج سے متعلق فیصلوں پر عوامی احتجاج کے درمیان ایران کے سیکورٹی آپریٹس بسیج کے ایک رکن کی مدد کی تھی۔

واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی سیکورٹی فورسز نے ڈاکٹر اور ان کی اہلیہ کے گھر پر چھاپہ مارا انہیں گرفتار کیا اور ان کی 14 سالہ بیٹی کے سامنے انہیں مارا پیٹا۔ یہ تفصیل ایران میں گار حسن لو کے ایک سابق ساتھی بہراد سادوگیان جو کینیڈا میں ہوتے اور کیس کی پیروی کرتے ہیں، نے بتائیں۔

سادوگیان نے کہا کہ سیکورٹی فورسز کے ایک رکن نے ایک ریڈیولوجسٹ غار حسن لو کو بالوں سے پکڑا، اس کی گردن پر چاقو رکھ دیا اور پوچھا کہ اسلحہ کہاں رکھا ہے۔

دوست اور خاندان کے ارکان، جن میں سے کچھ نے اپنی حفاظت کے خوف سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، نے کہا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ جوڑے نے بسیج کے رکن کے خلاف تشدد میں حصہ لیا ہو۔

اخبار نے خاندان کے افراد کا حوالہ دیا جنہوں نے کہا کہ انہوں نے گرفتاری سے قبل اس جوڑے سے بات کی تھی جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک مولوی کی مدد کے لیے آئے تھے جسے قریب میں بری طرح سے مارا گیا تھا۔

خوفناک تجربہ

ایرانی سنیما اور تھیٹر کے اداکار اشکان خطیبی نے اپنے انسٹاگرام پیج پر 90 دنوں تک "خوف، بھیس اور اضطراب" میں رہنے کے اپنے تجربے کی تفصیلات شائع کیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں جاری مظاہروں کے ساتھ یکجہتی کے بعد ایرانی حکومت نے انہیں دھمکیاں دی ہیں۔

5 دسمبر کو گر حسن لو کو سزائے موت سنائی گئی اور اس کی اہلیہ کو بسیج کے رکن عجمیان کی موت میں مبینہ کردار کے لیے 25 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ جوڑے کو مناسب قانونی نمائندگی نہیں ملی۔

عجمان کی موت میں کم از کم 15 افراد کو الزامات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ گر حسن لو سمیت ان میں سے پانچ کو سزائے موت سنائی گئی۔

دریں اثنا ایرانی حکومت فلمی اداکاروں پر اپنا دباؤ جاری رکھے ہوئے ہے اور اس نے تقریبا 50 ایرانی فلم سازوں کو جیلوں میں بند کر رکھا ہے۔

خطیبی نے "انسٹاگرام" پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ 23 ستمبر کو انہیں تفتیش کاروں کی جانب سے "تشدد، بدسلوکی اور توہین" کے الزامات کے متعلق آگاہ کیا گیا۔

ان کا کیس جج کو بھیج دیا گیا۔ ان سے کئی گھنٹوں تک پوچھ تاچھ کی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ مقدسات کی توہین کے بہانے مجھ پر سادہ لباس اہلکاروں نے گلی میں حملہ کیا۔ مجھے فون کالز کے ذریعے بار بار جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں یہاں تک کہ میں نے اپنا فون بند کر دیا۔

میں نے اپنا کام اور وہ سب کچھ کرنا چھوڑ دیا جس کا میں نے منصوبہ بنایا تھا۔ اس عرصے کے دوران مجھے ایک بار فالج کا دورہ پڑا۔

اس ایرانی نمائندے نے کہا ہے کہ وہ ایران کے سب سے خوبصورت اور بہادر لوگوں کو ہر روز پھانسی یا قتل کرتے ہیں۔ میں جانتا ہوں اور آپ بھی جانتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں