حزب اللہ نے اقوام متحدہ کے امن فوجی کے مشتبہ قاتل کو حکام کے حوالےکردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

لبنان کی طاقتورشیعہ ملیشیا حزب اللہ نے اس ماہ کے اوائل میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں شامل ایک آئرش فوجی کے قتل میں ملوّث ہونے کے شُبے میں مشتبہ شخص کوحکام کے حوالے کردیا ہے۔

23 سالہ آئرش فوجی شان رونی 14 دسمبرکو لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس (یونیفیل) کی گاڑی پر ملک کے جنوب میں واقع گاؤں العاقبيہ کے قریب حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔یہ علاقہ ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتاہے۔اس حملے میں تین اورفوجی زخمی ہوگئے تھے۔

یونیفیل لبنان اوراسرائیل کے درمیان بفرفورس کے طور پر کام کرتی ہے اوراسرائیلی سرحد کے نزدیک تعینات ہے۔

ایک سکیورٹی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حزب اللہ نے اتوار کومرکزی حملہ آورکو حوالے کردیا ہے اور اس کے بعدسکیورٹی فورسز نے اسے باضابطہ طور پرگرفتارکرلیا ہے۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکاکہ گرفتار شخص حزب اللہ کا رکن تھا یا نہیں۔اس سکیورٹی عہدہ دار نے بتایا کہ حزب اللہ لبنانی فوج کی انٹیلی جنس کی سربراہی میں تحقیقات میں تعاون کررہی ہے اورابتدائی تحقیقات قریباً مکمل ہوچکی ہیں۔

رواں ہفتے کے اوائل میں ایک عدالتی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ لبنانی تفتیش کاروں نے حملے میں ملوث مشتبہ افراد کی شناخت کرلی ہے۔

عدالتی ذرائع نے ابتدائی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ مسلح افراد کولے جانے والی ایک کار نے یونیفیل کی گاڑی کا پیچھا کیا تھا اور یہ حملہ ’’پہلے سے طے شدہ‘‘ تھا۔

حزب اللہ نے بار بارتشدد کے اس واقعہ میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے اور اس کے سکیورٹی چیف وافق صفا نے اس قتل کو’’غیرارادی‘‘ قراردیاتھا۔

آئرلینڈ کے وزیرخارجہ اور وزیردفاع سائمن کووینی نے لبنان میں اس واقعہ کے بعد بتایاتھا کہ ان کی بکتربند گاڑی کو’’دشمن‘‘ ہجوم نے گھیر لیا تھا۔آئرش فوجی اس وقت دوبکتربند گاڑیوں پرسوار ہوکر اپنے آپریشن کے علاقے سے دارالحکومت بیروت کی جانب جارہے تھے لیکن ان کی گاڑیوں کو ایک دوسرے سے الگ کرلیا گیا تھا۔ان میں سے ایک کو ’’دشمن ہجوم‘‘ نے گھیرلیا اورگولیاں چلائی گئیں جس کے نتیجے میں بدقسمتی سے ہمارا ایک امن فوجی ہلاک ہوگیاتھا۔

عینی شاہدین نے بتایا تھا کہ العاقبيہ کے علاقے میں دیہاتیوں نے رونی کی گاڑی کو اس وقت روک لیا تھا جب اس نے بحیرہ روم کے ساحل کے ساتھ ایک سڑک اختیارکی اور یہ عام طور پر یونیفیل کے زیراستعمال نہیں تھی۔

فورس نے کہا ہے کہ العاقبيہ یونیفیل کے آپریشنز کے علاقے سے بالکل باہر ہے۔تینوں فوجی اس وقت زخمی ہوئے جب گاڑی ایک رکاوٹی پول سے ٹکرا کر الٹ گئی تھی۔

گذشتہ برسوں کے دوران میں حزب اللہ کے حامیوں اور اقوام متحدہ کے امن دستوں کے درمیان متعدد واقعات پیش آئے ہیں لیکن ان میں شاذونادرہی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

یونیفیل نے بیروت پرزوردیا ہے کہ وہ قریباً آٹھ سال میں اپنے ایک امن فوجی کی پرتشدد ہلاکت کی فوری تحقیقات کو یقینی بنائے۔یادرہے کہ یہ فورس 1978 میں اسرائیلی افواج کے انخلا کی نگرانی کے لیے قائم کی گئی تھی۔تب اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کے خلاف انتقامی کارروائی کے نام پرلبنان پر حملہ کردیا تھا۔اسرائیل 2000 میں جنوبی لبنان سے نکل گیا تھا لیکن اس نے سنہ 2006 میں حزب اللہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ تباہ کن جنگ لڑی تھی۔لبنان اور اسرائیل اس وقت تکنیکی طور پرحالتِ جنگ میں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں