فساد فی الارض کے الزام میں ایرانی خاتون بلاگر قید، سزائے موت کا خطرہ

سابق رکن پارلیمان حسین انصاری نے کھلے خط میں خامنہ ای کو ’’بڑے دھماکے‘‘ سے خبردار کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکہ میں مقیم ایرانی خاتون کارکن مسیح علی نژاد نے کہا ہے کہ ایرانی حکومت نے بلاگر بیتا حقانی نسیمی کو فساد فی الارض کے الزام میں کمشاہ کے حراستی مرکز میں بھیج دیا ہے اور اس کے خاندان کو خدشہ ہے کہ حکومت اسے سزائے موت سنا دے گی۔

ایرانی خاتون مہسا امینی کی پولیس حراست میں موت کے بعد 16 ستمبر کو شروع ہونے والے مظاہرے 100 ویں دن میں داخل ہو گئے ہیں۔ ایرانی دارالحکومت تہران اور کرج، سنندج، اصفہان، مشہد، بندر عباس، اھواز، بابل اور دیگ شہروں کے کم از کم 6 علاقوں میں ہفتے کی شام بھی مظاہرے کئے گئے۔

ایرانی انسانی حقوق کے کارکنوں کی ایجنسی "ھرانا" کے مطابق حکام کی جانب سے شروع کیے گئے خونی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں کم از کم 506 مظاہرین مارے گئے، جن میں 69 نابالغ بھی شامل تھے۔

گرفتاریوں کی تعداد 18,516 تک پہنچ گئی ہے۔ رواں ماہ دو مظاہرین کو پھانسی دینے کے بعد ایران کو شدید ملکی اور بین الاقوامی تنقید کا سامنا ہے۔

ایک طرف ایران کے مختلف شہروں میں مظاہرے جاری ہیں۔ دوسری طرف ویڈیو کلپس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بسیج میں لڑکیاں "ولی عصر" کے ہیڈ کوارٹرز کو آگ لگا رہی ہیں۔ درجہ حرارت میں بڑی کمی اور شدید سردی کے باوجود وسطی ایران کے شہر اصفہان اور دیگر شہروں میں برفباری کے دوران بھی مظاہرے کئے گئے۔

ایرانی عدلیہ کے اعلان کے بعد کہ سپریم کورٹ نے ان دو مظاہرین کی اپیل منظور کر لی ہے جنھیں تحقیقات میں غلطیوں کی وجہ سے سزائے موت سنائی گئی تھی۔ عدالت نے اپیل کا فیصلہ واپس لے لیا اور احتجاجی کارکن محمد قبادلو کی سزائے موت کو منظور کر لیا۔

ایران میں مظاہرین کا رخ مختلف چوکوں سے کرینوں کے ذریعے لوگوں کو پھانسی دینے کے میدانوں کی طرف ہوگیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ایرانی حکومت چاہتی ہے کہ وہ مظاہرین کو ڈرا اور دھمکا کر ان کی آوازیں خاموش کر دے۔

دریں اثنا اصلاح پسند سیاست دان اور سابق رکن پارلیمان حسین انصاری راد نے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے نام ایک کھلے خط میں خبردار کیا ہے کہ اگر "بنیاد پرست اصلاحات" نہیں ہوئیں تو "بڑا دھماکہ" ہو سکتا ہے۔

انصاری راد کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج بڑی توجہ سے سلگائی گئی ایک چھوٹی چنگاری ہے۔ یہ احتجاج ناکارہ اور بدعنوان انتظامیہ پر غصے، ناراضگی، عدم اعتماد اور مایوسی کی ایک بڑی مقدار کا اظہار ہے۔ انہوں نے ایرانی رہنما انصاری راد پر زور دیا کہ وہ جبر، پھانسی اور تشدد کی پالیسی کو ختم کریں۔

دریں اثنا قم مدرسہ اساتذہ کی انجمن نے پہلی دو پھانسیوں کے نفاذ کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کر دیا اور ایرانی عدلیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ سزائے موت پر عمل درآمد میں "زیادہ مضبوطی" کا مظاہرہ کرے تاکہ اس سزا کو ایک مثال بنا دیا جائے۔ یاد رہے 11 دیگر قیدیوں کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔

"ہرانا" ایجنسی نے کہا ہے کہ اس نے 58 مظاہرین کی شناخت کی ہے جنہیں پھانسی کا خطرہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں