شام:الرقہ میں داعش کا جیل پر ناکام خودکش بم حملہ؛6 کرد سکیورٹی اہلکارہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام کے شمال مشرقی شہرالرقہ میں سکیورٹی فورسز کے ایک مرکز پرداعش کے خود کش بم حملے میں کردوں کے زیرقیادت فورسز کے چھے ارکان ہلاک ہو گئے ہیں۔

امریکاکی حمایت یافتہ شامی جمہوری فورسز(ایس ڈی ایف)کے سربراہ مہ زلوم عابدی کوبانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پراس خودکش حملے کی اطلاع دی ہے۔ایس ڈی ایف کے میڈیا سینٹر کے سربراہ فرہاد شامی نے بتایا کہ ایک خودکش بمبار ہلاک ہوگیا ہے اور دوسرے کوحراست میں لے لیا گیا ہے۔

داعش نے الرقہ میں واقع سکیورٹی کمپلیکس پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔اس کے بارے میں جنگی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک فوجی انٹیلی جنس جیل کے قریب تھا جس میں سیکڑوں شدت پسند رہائش پذیر تھے۔

داعش کے دو جنگجوؤں نے آج علی الصباح اچانک حملہ کیا تھا اور کہا کہ کردوں کے زیرانتظام الہول کیمپ میں رہنے والے شدت پسندوں کے رشتہ داروں اور مسلمان قیدیوں کا بدلہ لینے کے لیے یہ حملہ کیا گیا تھا۔گروپ نے ٹیلی گرام پر ایک بیان میں کہا کہ حملے کے بعد ایک مجرم زندہ بچ گیا تھا۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے بتایاہے کہ اس حملےمیں کردوں کے زیرقیادت سکیورٹی فورسزکے چھے ارکان اوردوشدت پسند ہلاک ہو گئے۔

رصدگاہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس ناکام حملے میں شام میں داعش کے سابق ڈی فیکٹو دارالحکومت الرقہ میں کرد سکیورٹی کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا۔اس میں ایک فوجی انٹیلی جنس جیل بھی شامل ہے جہاں سیکڑوں شدت پسندوں کو رکھا گیا ہے۔برطانیہ میں قائم اس مانیٹر کے سربراہ رامی عبدالرحمٰن کا کہنا ہے کہ’’جہادی ملٹری انٹیلی جنس جیل کو نشانہ بناناچاہتے تھے‘‘۔

واضح رہے کہ داعش نے 2014 میں عراق اورشام کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا، جس میں عراق کی سرحد کے ساتھ واقع الرقہ بھی شامل تھا اور یہ سخت گیرجنگجوگروپ کی طاقت کا مرکزی علاقہ تھا، لیکن 2019 میں شام میں اپنا آخری اہم علاقہ کھونے کے بعد سے اس نے گوریلا حملے شروع کررکھے ہیں۔

حالیہ برسوں میں اس کے ہزاروں بچے کھچے جنگجو شام اور عراق کے دوردرازعلاقوں میں خفیہ پناہ گاہوں میں روپوش ہوچکے ہیں اور وہاں سے وہ چھاپا مار طرز کے حملے کرتے رہتے ہیں۔

ایس ڈی ایف کے مطابق جنوری میں شام کے شمال مشرقی شہرالحسکہ میں ایس ڈی ایف کے زیرانتظام السنع جیل پر داعش کے ایک بڑے حملے میں قریباً 500 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ان میں داعش سے تعلق رکھنے والے 374 افراد اور ایس ڈی ایف کے درجنوں جنگجو اور جیل کا عملہ بھی شامل تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں