نتن یاہو کی کابینہ کے اہم ارکان جتنے مضبوط حکومت اتنی ہی کمزور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

نیتن یاہو نے اپنی چھٹی حکومت میں انتہائی کٹر دائیں بازو کی اتحادی جماعتوں سمیت اپنی کابینہ میں 30 سے زائد افراد کو شامل کر لیا ہے۔ ان کی کابینہ میں کٹر یہودی جماعتوں کے سربراہوں کی شمولیت ان کی اپنی کمزوری کا باعث بننے کے اندیشے ظاہر کیے گئے ہیں۔

اسی لیے پہلے ہی روز ان کی حکومت پر اپوزیشن کی طرف سے ' کمزور کمزور کے آوزے کسے گئے۔ اسرائیلی حکومت میں اتحادیوں کا اثر کس قدر زیادہ ہو گا اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا گیا ہے کہ ایک طرف حکومت سازی میں نتن کو آخری لمحے تک چیلنج درپیش رہا اور دوسری جانب تمام اہم وزارتیں اتحادی جماعتوں کو دینا پڑی ہیں۔

وزارت خزانہ سموتریش ، سموتریش کے پاس مغربی کنارے سے متعلق امور کے علاوہ وزارت دفاع میں سے بھی کچھ امور کو دیکھنے کی ذمہ داری ہوگی۔

سموتریش کی اہمیت اس کابینہ میں عملا وزیر اعظم کے بعد اہم ترین بن گئی ہے کہ انہیں وزارت خزانہ کے ساتھ مغربی کنارے کے بارے میں کٹر یہودی جماعتوں کے اہم ترین ایجنڈے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے ۔ اسی لیے وزارت دفاع کے بعض شعبے بھی ان کے تابع کیے جارہے ہیں۔

وزارت داخلہ بین گویرکے پاس ہوگی۔ جو داخلہ امور پر زیادہ سے زیادہ کنٹرول کے خواہاں ہیں اور اس معاملے میں فوج سے بھی زیادہ بااختیار چاہتے ہیں۔ سمتریش کی طرح بین گویر بھی ایک کٹر یہودی جماعت کے سربراہ ہیں۔ ان کی وزارت کو مضبوط تر بنانے کے لیے بھی قانون میں ترامیم کی جارہی ہے۔

امریکہ میں اسرائیلی سفیر رہنے والے رون ڈرمر کو سٹریٹجک امور کا وزیر بنایا ہے۔ وہ امریکہ و یورپ کے ساتھ معاملات کو بہتر رکھنے کے علاوہ خطے میں اسرائیلی حکمت عملی میں اہم کردار ادا کریں گے۔

وزارت خارجہ ایل کوہن کو دی گئی ہے۔ ایلی کوہن اسرائیل کے نئے وزیر خارجہ ہوں گے تاہم ان کا معاملہ اس سبب ابھی زیر بحث ہے کہ لیکوڈ پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اسرائیل کاٹز اگر دوسرے نصف مدت کے لیے وزیر خارجہ بننا مان گئے تو پہلے نصف تک ایلی کوہن وزیر خارجہ رہیں گے اور دوسری نصف مدت کے لیے اسرائیل کاٹز وزیر خارجہ ہوں گے۔ تاہم یہ معاملہ ابھی طے پانا باقی ہے۔

جبکہ سابق اعلی فوجی افسر کو گیلانت کو وزیر دفاع مقرر کیا ہے۔ وہ 2010 میں بھی ایک بار وزیر دفاع بنتے بنتے رہے گئے تھے کہ ان کے گھر کی تعمیر کے حوالے سے ایک سکینڈل سامنے آگیا تھا۔ اب بارہ سال بعد انہیں دوبارہ وزیر دفاع بنانے کا موقع آگیا ہے۔

اور یاریو لیوین وزیرکو انصاف مقرر کیا گیا ہے۔ وہ اس سے پہلے اسرائیلی پارلیمنٹ کے سپیکر بھی رہ چکے ہیں۔ ایک قانون دان ہونے کے ناطے اسرائیلی نظام انصاف کو تبدیل کرنے اور دیگر قوانین میں ترمیم کے لیے ان کا کردار اہم ہو گا۔ تاہم چھٹی بار وزیر اعظم بننے کا ریکارڈ قائم کرنے والے نیتن یاہو کی نئی حکومت ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ متنازع اور کمزور ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں