نیتن یاہو چھٹی بار اسرائیل کے وزیر اعظم بننے میں کامیاب

انتہا پسند دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی اتحادی حکومت کے ایجنڈے میں ایرانی جوہری بم کو روکنا اہم ترین قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

نیتن یاہو اسرائیل کے چھٹی بار وزیر اعظم بن گئے ہیں۔ یاہو کو یہ کامیابی کٹر دائیں بازو اور نسل پرستی کے حوالے سے گہری کمٹمنٹ رکھنے والی یہودی جماعتوں کے ساتھ اتحادکے بعد ملی ہے۔

جمعرات کے روز اپنی اتحادی حکومت کے حلف کے روز پارلیمنٹ سے خطاب میں یاہو نے اپنی نئی حکومت کا ایجنڈا پیش کیا، تاہم اس دوران پارلیمنٹ کے باہر سینکڑوں مظاہرین نے احتجاج کیا ۔

پارلیمنٹ کے اندر بھی ناراض ارکان پارلیمنٹ نے بار بار شور کیا اور تقریروں کو روکنے کی کوشش کی۔ پارلیمنٹ کے اجلاس سے سبکدوش ہونے والے وزیر اعظم یائر لیپڈ نے بھی خطاب کیا اور کہا ان کی حکومت نے سعودی عرب کے ساتھ نارمل تعلقات کا ہدف تقریبا مکمل کر لیا ہے۔

نیتن یاہو نے بطور وزیر اعظم پارلیمنٹ سے خطاب میں اپنے ایجنڈے کے تین اولیں اور بنیادی نکات پیش کرتے ہوئے کہا ۔ ایران کے جوہری بم کو روکنا ان کے حکمران اتحاد اور حکومت کی اہم ترجیح ہے۔

دوسرا اہم نکتہ بیان کرتے ہوئے نیتن یاہو نے اسرائیلی ریاست کے بنیادی ڈھانچے کو ترقی دینا بتایا جبکہ نیز انہوں نے جرائم کے خاتمے کو اپنی حکومت کے تیسرے اہم نکتے کے طور پر پیش کیا ۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نئی حکومت بڑھتے ہوئے اخراجات کو روکنے کی کوشش کرے گی اور تعلیمی شعبے کی بہتری کے لیے اقدامات کرے گی ۔ ان کی تقریر شروع ہونے سے پہلے اپوزیشن ارکان کے بنچوں سے کمزور کمزور کے نعرے بلند ہوتے رہے، تاہم اس ہنگامہ آرائی کے بعد کئی ارکان پارلیمنٹ کو ایوان سے باہر نکال دیا گیا ۔

اس دوران نیتن یاہو نے اپوزیشن پر انتخابی نتائج تسلیم نہ کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ ہمارے حکمران اتحاد کے درمیان کچھ چیزوں پر اختلاف ہے اپوزیشن کی چیخیں سننے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر ہمارے درمیان کچھ چیزوں پر اختلاف ہے تو کچھ پر اتفاق بھی ہے۔

اپوزیشن ارکان کو پتہ ہونا چاہیے کہ انتخاب ہارنے سے جمہوریت ختم نہیں ہو جاتی یہ ہار جیت جمہوریت کا حسن ہے۔ لیکن یہ کہتے ہیں کہ ہم دارالحکومت کی باڑ پر نہیں چڑھتے اور ہم پارلیمنٹ کی بار پر نہیں چڑھتے۔

اپنی تقریر کے دوران یاہو نے اپنے کابینہ کے 30 سے زائد ارکان کا تعارف بھی کرایا۔ واضح رہےاتحادی حکومت کو ایوان میں 64 ارکان کی حمایت حاصل ہے، جن میں سے تقریباً نصف وزیر مشیر بنائے لیے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں