شام میں جنگ کے آغاز کے بعد ہلاکتوں کی سب سے کم سالانہ تعداد ریکارڈ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام میں 2022 کے دوران میں جنگ اور تشدد کے واقعات میں 3,825 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔یہ ایک دہائی قبل جنگ کے آغاز کے بعد سے ایک سال میں سب سے کم ہلاکتیں ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے 2021 میں پہلے ہلاکتوں کی تعداد 3,746 بتائی تھی۔اس کے بعداس نے ہلاکتوں کی تعداد پرنظرثانی کی تھی اورسالانہ ہلاکتوں کی تعداد3,882 بتائی تھی۔

شام میں سنہ2011ء کے اوائل میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف بشارالاسد کے وحشیانہ انداز میں کریک ڈاؤن سے یہ مسلح تنازع شروع ہواتھا اور اس کے بعد کئی برسوں کی مہلک لڑائی میں تبدیل ہوگیا تھا۔مہلک بمباری اور تباہ کن لڑائی کے بعد گذشتہ تین برسوں میں اس تنازع کی شدت بڑی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔

البتہ وقفے وقفے سے لڑائی شروع ہوجاتی ہے اور جہادی جنگجوبالخصوص ملک کے مشرق میں حملے کرتےرہتے ہیں۔

رصدگاہ کےاعداد و شمارکے مطابق، 2022 میں ہلاک ہونے والوں میں 1،627 عام شہری بھی شامل تھے۔ان میں 321 بچے بھی شامل تھے۔رصدگاہ شام میں برسرزمین پر اپنے ذرائع کے وسیع نیٹ ورک پر انحصار کرتی ہے اور انھیں کی فراہم کردہ اطلاعات کی بنیاد پرہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد جاری کرتی ہے۔

اس نے بتایا کہ مہلوک عام شہریوں میں سے 209 افراد بارودی سرنگوں یا دیگر دھماکا خیز مواد کی نذرہوئے تھے اور ان میں نصف بچے تھے۔ اس کے علاوہ بشارالاسد کی حکومت کے وفادار217 دیگر جنگجوؤں کے ساتھ سرکاری سکیورٹی فورسز کے 627 اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

ان مہلوکین میں کرد ملیشیا کے زیرقیادت شامی جمہوری فورسز کے 387 ارکان اور ان کے اتحادی بھی شامل ہیں جبکہ 500 سے زیادہ جہادی جنگجو بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

رصدگاہ کے ڈائریکٹررامی عبدالرحمٰن نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ختم ہونے والے سال کے دوران میں شام سکیورٹی افراتفری،اسرائیل کے درجنوں فضائی حملوں اور شام کے صحرا میں داعش کے حملوں کی وجہ سے زیادہ ترہلاکتیں ہوئی ہیں۔

ایک دہائی قبل شروع ہونے والی اس جنگ کے نتیجے میں اب تک قریباً پانچ لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اورجنگ سے قبل شام کی کل آبادی میں سے نصف بے گھر ہو چکی ہے۔

صدربشارالاسد نے ابتدائی طور پر باغی گروپوں کے زیرقبضہ آنے والے زیادہ ترعلاقوں پر دوبارہ کنٹرول کر لیا ہے جبکہ ایس ڈی ایف – جس کے ساتھ حکومت کا ایک حد تک تعاون برقرار ہے – ملک کے شمال اور شمال مشرق میں واقع علاقوں پراپنا کنٹرول برقرار رکھا ہواہے۔

پڑوسی ملک ترکیہ نے حالیہ مہینوں میں شام میں کردوں کے خلاف زمینی کارروائی شروع کرنے کی باربار دھمکی دی ہے۔ وہ اس سے قبل بھی کردملیشیا کے خلاف اس طرح کی تین فوجی کارروائیاں کرچکا ہے۔

اس کے علاوہ شمال مغربی صوبہ ادلب کے قریباً نصف حصے اوراس کے ہمسایہ صوبوں حماہ، حلب اور اللذاقیہ کی سرحد سے متصل علاقوں پرجہادی گروپ ہیئت تحریرالشام (ایچ ٹی ایس) اورحزب اختلاف کے دیگر دھڑوں کا غلبہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں