100 ایرانی قیدیوں کو ممکنہ سزائے موت کا سامنا

ایران کے جنوب مشرق میں مظاہرین نے آیت اللہ خامنہ ای کی مذمت میں نعرہ بازی کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایک ایرانی انسانی حقوق کے گروپ نے جمعہ کے روز تصدیق کی ہے کہ ایران میں کم از کم 100 زیر حراست مظاہرین کو ممکنہ موت کی سزا کا سامنا ہے۔

ناروے میں ہیڈ کوارٹر رکھنے والے ایران میں قائم انسانی حقوق کے گروپ نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ کم از کم 100 مظاہرین کو اس وقت سزائے موت کے الزامات کا سامنا ہے۔ ان کے خلاف ممکنہ موت کی سزا کا خطرہ موجود ہے۔ گروپ نے کہا یہ بھی خیال کیا جارہا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

ایرانی عدالتوں نے اب تک ایک درجن سے زائد مقدمات میں موت کی سزائیں سنائی ہیں جن میں مظاہرین کو سکیورٹی فورسز کے ارکان کو ہلاک یا زخمی کرنے، عوامی املاک کو تباہ کرنے اور عوام کو دہشت زدہ کرنے کے جرم میں مجرم قرار دینے کے بعد "محاربہ" جیسے الزامات کی بنیاد پر سزائے موت سنائی گئی ہے۔

خامنہ ای کے خلاف نعرہ بازی

جمعہ کو ایران کے شورش زدہ جنوب مشرق میں مظاہرین نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی مذمت کرتے ہوئے نعرے لگائے۔

16 ستمبر کو 22 سالہ کرد خاتون مہسا امینی کی موت کے بعد ایران میں مذہبی قیادت کے خلاف مظاہرے جاری ہیں ۔ ایرانی اخلاقی پولیس نے حجاب نہ کرنے پر مہسا امینی کو گرفتار کیا تھا اور پولیس حراست میں ہی مہسا کی موت ہوگئی تھی۔

مظاہرین نے نعرے لگائے "مرگ بر آمر، مردہ باد خامنہ ای!" سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے گئے۔ اس ویڈیو کلپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس کا تعلق صوبہ سیستان و بلوچستان کے دارالحکومت زاہدان سے ہے۔

غریب صوبے میں 20 لاکھ بلوچ اقلیت آباد ہے اور انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ انہیں کئی دہائیوں سے امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا ہے۔

یہ احتجاج جس میں زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے مظاہرین نے حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے 1979 کے انقلاب کے بعد سے ایران کو درپیش سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک ہے۔

دوسری طرف ریاستی میڈیا نے بڑے پیمانے پر، ریاستی سرپرستی میں ہونے والی بدامنی کی مذمت اور علما سے وفاداری کا عہد کرنے کے لیے نکالی جانے والی ریلیوں کی کوریج کی۔

مرکزی بینک کا اپنی کرنسی کی پشت پناہی کا اعلان

اقتصادی پہلو پر ملک کے مرکزی بینک کے نئے گورنر محمد رضا فرزین نے جمعہ کو سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ مرکزی بینک کی سب سے اہم ذمہ داری افراط زر اور غیر ملکی کرنسی کی شرح کو کنٹرول کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بینک ایرانی کرنسی کو سپورٹ کرنے کے لیے زرمبادلہ کی مارکیٹ میں مداخلت کرے گا۔

واضح رہے احتجاجی تحریک شروع ہونے کے بعد سے ایران کی کرنسی اپنی قدر کا ایک چوتھائی کھو چکی ہے اور غیر سرکاری آزاد منڈی میں ریکارڈ کم ترین سطح پر گر گئی ہے کیونکہ مایوس ایرانی اپنی بچتوں کو 50 فیصد افراط زر سے بچانے کے لیے ڈالر اور سونا خریدنے میں لگ گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں