سعودی عرب میں بارشوں کے بعد ’ٹرفل‘ کا سیزن شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے مختلف علاقوں بالخصوص شمالی علاقوں میں "الفقع" [ٹرفل] نامی خودرو کھنبی سب سے زیادہ فروخت کی جا رہی ہے۔ اس موسم میں ’ٹرفل پلانٹ‘ یا ’ٹرفل‘ جزیرہ نما عرب کے لوگوں کی توجہ کا خاص مرکز ہوتی ہے۔

سعودی شہری اپنی خوراک میں"ٹرفلز" کھانے اور استعمال کرنے کو بہت پسند کرتے ہیں۔ یہ کھنبی نما ایک خودرو نبات ہے جو بارشوں کے موسم میں اگتی ہے۔ عام طور ٹرفل زیادہ تر سردیوں کے موسم کی آمد سے پہلے اگتی ہے۔ خاص طور پر سعودی شہری اس کے بہت دل دادہ ہوتے ہیں۔ عرب اور خلیجی ممالک میں صحرا میں اگنے والی اس نباتات کو ورثے کی کتابوں میں "بنت الرعد" کہا جاتا ہے۔

غیرمعمولی طلب

شمالی سرحدی علاقے میں ’ٹرفل‘ کی منڈیوں میں ان دنوں اس کی زبردست مانگ دیکھنے میں آ رہی ہے جہاں موسم بہار کے آثار نظر آتے ہیں اور اس سال کے شروع میں اس خطے کے صحراؤں میں ٹرفل کی کئی اقسام دستیاب ہیں۔ یہ صحرائی فنگس کی سب سے لذیذ اور قیمتی اقسام میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔

ٹرفل صحراؤں میں آلو کی شکل میں زیر زمین اگتے ہیں۔ صحرائی پودے کی ایک قسم بلوط جیسے بڑے درختوں کی جڑوں کے قریب ہوتی ہے اور اس کی شکل گول ہوتی ہے۔ گوشت کی طرح نرم اور ڈھیلا ہونے کے ساتھ اس کی سطح ہموار یا تپ دار ہوتی ہے۔ اس کا رنگ سفید سے سیاہ تک مختلف ہوتا ہے اور یہ مختلف سائز میں ہوتا ہے۔ ان میں سے کچھ اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ وہ نٹ کے سائز کے ہوتے ہیں۔ جب کہ کچھ سنگترے کے سائز کے بڑے ٹرفل بھی پائے جاتے ہیں۔

مختلف قیمتوں میں فرق

ٹرفل بیچنے والے فواز الاسلمی نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ اس سیزن میں ٹرفل کی بہت مانگ ہوتی ہے اور ایک کاٹن کی قیمت 3000 ریال تک پہنچ سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سیزن ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور ایک کیلو 250 ریال سے شروع ہو کر 600 تک دستیاب ہے، قیمت ہر ٹرفل کے سائز کے حساب سے لگائی جاتی ہے۔ فروری کے مہینے میں اس سے زیادہ مقدار متوقع ہے۔ عرعر، رفحاء، طریف، العویقیلہ اور اس سے منسلک دیہات میں ٹرفل مارکیٹیں اگلے چند ہفتوں کے دوران ٹرفل سے بھری رہیں گی۔

مشروم کی اقسام

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ٹرفلز کی تلاش ہر سال جنوری کے دوسرے نصف میں ان مقامات میں ہوتی ہے جہاں بارش ہوتی ہے، اور ان کی خاص خصوصیات ہوتی ہیں۔

سعودی عرب اس کی دو اقسام کے خالصی ٹرفلز کے لیے مشہور ہے جو کہ سفید یا زبیدی کہلاتے ہیں۔ یہ دوسرے نوعیت کے ٹرفل بہت سفید ہوتے ہیں۔

ٹرفلز کی موجودگی کا اندازہ الرقہ نامی پودے کی موجودگی سے لگایا جاتا ہے جو اس کے ارد گرد چھوٹے درختوں کی شکل میں ہوتا ہے۔

ٹرفلز زمین میں پھول جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گرج چمک کے موسم کثرت سے ٹرفل نکلتے ہیں۔ یہ نایاب نوعیت کی کھمبی ہوتی ہے جو اکیلی اگتی ہے اور اسے مصنوعی طریقے سے کاشت کرنا مشکل ہو تا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں