زیر تعمیر 'دبئی پرل' گرنے سے زلزلے جیسی لرزش ، شہری خوفزدہ ہو گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایک بڑی زیر تعمیر عمارت کے اچانک منہدم ہوجانے سے پیدا ہونے والی خوفناک دھمک سے دبئی کے بہت سے شہریوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔

خوف زدہ ہونے والے شہریوں کے بقول انہوں نے یہ سمجھا کہ زلزلہ آیا ہے اور اس کی وجہ سے ان کی عمارات جن میں یہ رہاش پذیر ہیں یا کام کرتے ہیں وہ بھی لرز اٹھی ہیں۔

دبئی کے میڈیا سٹی کے قریب ' دبئی پرل ' نامی زیر تعمیر ایک بڑی عمارت کے اچانک گرنے سے میڈیا سٹی کے لوگ بھی یہ سمجھ کر خوف زدہ ہو گئے کہ جیسے زلزلہ سا آگیا ہو۔

میڈیا سٹی سے ایک ٹویٹر صارف پوجا شرما نے اپنا یہ خوف ٹویٹر پر شئیر کرتے ہوئے دوسرے لوگوں سے کہا ' مجھے بتائیے کیا میں اکیلی ہوں جس نے دبئی میں ایک بڑا زلزلہ محسوس کیا '؟

ایک اور ٹویٹر صارف سونی سنگھا اپنے ٹویٹ میں لکھا ' مجھے لگا جیسے دبئی میں زلزلہ آیا ہے ، کیا کسی اور نے بھی ایسا محسوس کیا کہ ان کی بلڈنگز بھی لرز اٹھیں؟

واضح رہے دبئی پرل کی اس گر جانے والی عمارت کے چار ٹاور تھے جن میں 140 اپارٹمنٹس ، سات فائیو سٹار ہوٹلز اور ساٹھ سے زیادہ ریستوران ڈیزائن کا حصہ تھے۔

جبکہ 1600 افراد کے بیٹھ سکنے والا ایک تھیٹر بھی اس عمارت کا حصہ تھا۔ اس کی تعمیر میڈیا سٹی، انٹر نیٹ سٹی اور نالج ویلیج کے نزدیک جاری تھی۔

عمارت کے گرنے کی خبر جلد ہی پورے دبئی میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ جس سے لوگوں کو اطیمنان ہو گیا کہ یہ کوئی خوف ناک اور تباہ کن زلزلہ نہیں تھا صرف دبئی پرل کا انہدام ہوا ہے۔

یاد رہے 2021 میں ایران کے علاقے میں آنے والے زلزلے کے جھٹکے امارات میں بھی محسوس کیے گئے تھے۔ حتیٰ کہ ایران اور دبئی میں آفٹر شاکس بھی یکساں طور پر محسوس کیے جاتے رہے۔

اسی طرح سوشل میڈیا پوسٹس کے مطابق 2022 میں جنوبی ایران نے رچر سکیل پر 6،00 کی شدت کے زلزلے کے جھٹکے بھی امارات میں محسوس کیے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں