سعودیوں کے لیے یکم رجب کی اہمیت کیا ہے

سعودی شہریوں کی بڑی تعداد کی تاریخ پیدائش یکم رجب ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یکم رجب کی سعودی شہریوں کی زندگی میں ایک خاص اہمیت ہے۔ ماہ رجب کی پہلی تاریخ سعودی مردوں اور خواتین کے ایک بڑے حصے کی تاریخ پیدائش ہے۔ یہ وہ تاریخ ہے جو سعودی شناختی کارڈز میں نصف کے قریب سعودیوں شہریوں کے یوم پیدائش کے طور پر درج ہے۔

رجب کو اختیار کرنے کی کہانی

ہجری سال کے ساتویں مہینے کی پہلی تاریخ کا انتخاب اصل میں ان لوگوں کی یوم پیدائش کے طور پر کیا گیا ہے جن کو اپنی تاریخ یاد نہیں ہوتی یا ان کے پاس اپنی پیدائش کی تاریخ کا ثبوت موجود نہیں ہوتا۔ ان کے پاس برتھ سرٹیفکیٹ نہیں ہوتا۔ ان افراد میں سے اکثر کو اپنی پیدائش کا سال یاد ہوتا ہے۔ شہری حیثیت کے حصول کے لیے قومی شناختی کارڈ لینا ضروری ہے اور اس میں پوری تاریخ پیدائش درج کرنا بھی ضروری قرار پاتا ہے۔ اس موقع پر جن افراد کو اپنی پیدائش کا سال معلوم ہو ، ان کے لیے فرض کرلیا جاتا ہے کہ وہ سال کے وسط میں پیدا ہوئے ہیں۔ یکم رجب سال کے وسط کی تاریخ ہے۔

سپریم آرڈر کا اجرا

سول افیئرز نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ تاریخ کو درست لکھنے کی اہمیت کی وجہ سے اس رجحان سے کیسے نمٹا جائے۔ مکمل تاریخ پیدائش کا تعلق ریٹائرمنٹ سمیت متعدد خدمات سے ہے۔ اس سلسلے میں ایک سپریم آرڈر جاری کیا گیا تھا تاکہ تاریخ پیدائش کو ثابت کیا جا سکے۔ اس آرڈر کے تحت وہ تمام شہری جو ہجری سال کے وسط میں اپنی پیدائش کا صحیح دن اور مہینہ نہیں جانتے ان کی تاریخ پیدائش سال کے وسط یعنی یکم رجب کو شمار کرلیا جائے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب میں عام طور پر پرانے اور معمر افراد میں پیدائش کا دن اور مہینہ معلوم نہ ہونے کا رجحان ہے۔ تاہم آج کل انتظامی اور تکنیکی ترقی کے ساتھ پیدائش کا اندراج دن ، مہینے ، گھنٹے اور منٹ کے حساب سے کیا جاتا ہے۔ ان دنوں میں شہریوں کے لیے اصل تاریخ پیدائش جانے کا مسئلہ باقی نہیں رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں