غزہ میں خواتین کے لیے پہلا باکسنگ سنٹر ، 40 فلسطینی لڑکیاں تربیت پا رہی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فلسطینی خواتین کو باکسنگ سکھانے کے لیے قائم باکنس سنٹر نے اپنے دروازے مزید خواتین کے لیے بھی کھول دیے ہیں۔ غزہ کے ایک گھر کے گیراج سے دو بچیوں کو باکسنگ کی تربیت دینے سے شروع ہونے والا یہ باکسنگ کلب اب ایک باضابطہ شکل اختیار کر چکا ہے۔

اسامہ ایوب اس کلب کے بانی اور باکسنگ کوچ ہیں۔ وہ اپنے اس کلب کو پہلا فلسطینی باکسنگ سنٹر قرار دیتے ہیں۔ ان سے 15 سالہ فرح نے 9 سال کی عمر میں باکسنگ کی تربیت لینا شروع کی تھی اب وہ ایک پر اعتماد باکسر بن چکی ہیں اور دباو سے آزاد ہیں۔

غزہ کی پٹی پر 23 لاکھ فلسطینی آباد ہیں، اس تنگ مگر گنجان آباد فلسطینی شہر کی اسرائیل اور مصر دونوں نے ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ اس پر قائم باکسنگ سنٹر نے اب تربیت کے قواعد اور مدارج کو اپنا لیا ہے۔ یہ فلسطینی خواتین کا پہلا باکسنگ سنٹرہے۔

چھ سال پہلے فلسطینی شہری ایوب نے اس کا آغاز کیا تھا۔ اس وقت صرف دو بچیوں نے تربیت لینا شروع کی تھی۔ اس عرصے کے دوران یہ گیراج سے نکل کر ایک باقاعدہ عمارت میں منتقل ہو چکا ہے۔

باکسنگ کوچ ایوب نے کہا ' اب یہ لڑکیاں کسی بھی باکسنگ مقابلے کے لے تیار ہیں ۔ میں نے انہیں پانچ برسوں میں بہت سخت قسم کے تربیتی مراحل سے گذارا ہے۔ ہم نے ایک مثال قائم کی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا اس وقت 40 کے قریب لڑکیاں باکسنگ کی تربیت پا رہی ہیں۔ باکسنگ کے لیے تمام ضروری سہولتین موجود ہیں اور دیواریں مشہور باکسنگ ہیروز کی تصاویر سے سجائی گئی ہیں۔

فرح نے بات کرتے ہوئے کہا کچھ لوگ مجھے پوچھتے ہیں باکسنگ سیکھنے کا فائدہ کیا ہے کوئی ایسی تربیت لیتی جو لڑکیوں والی ہوتی۔ میں انہیں کہتی ہوں میں نے باکسنگ سے بہت کچھ سیکھا ہے ، میں اب باکسنگ کی عالمی چیمپئین شپ میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتی ہوں تاکہ فلسطینی عوام کی نمائندگی کر سکوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں