یورپی یونین نے پاسداران کو دہشت گرد قرار دینا عدالتی حکم سے مشروط کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یورپی یونین نے ایرانی پاسداران کو دہشت گرد قرار دینا یورپی یونین کی عدالت کے فیصلے سے مشروط کر دیا ہے۔ یورپی یونین کے خارجہ پالیسی چیف جوزپ بوریل اس بات کا واضح طور پر ذکر کیا ہے کہ بغیر عدالتی سند کے یورپی یونین پاسداران کو دہشت گرد گروپ نہیں قرار دے سکتی۔

جوزپ بوریل نے پیر کے روز اس امر کا اظہار اس وقت کیا ہے جب امریکہ اور کئی یورپی ممالک پاسداران کو دہشت گرد قرار دینے پر زور دے رہے ہیں۔ نیز یہ کہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے 37 ایسے افراد کی فہرست بھی مرتب کی ہے جن پر پابندی کی تجویز ہے۔

اسی طرح یورپی یونین کی پارلیمنٹ نے بھی یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ پاسداران کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔ کیونکہ پاسداران انقلاب ایران اپنے ہاں مظاہرین کو ظلم کا نشانہ بنانے اور روس کو ڈرون طیارے فراہم کرنے کی مرتکب ہوئی ہے۔

تاہم یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا ' یہ ایسا معاملہ نہیں ہے کہ اسے یورپی یونین کی عدالت کے کسی فیصلے کے بغیر کر لیا جائے۔' ان کا کہنا تھا 'آپ کسی کو اس بنیاد پر دہشت گرد نہیں کہہ سکتے کہ وہ ہمیں پسند نہیں ہے اس لیے دہشت گرد ہے۔

جوزپ بوریل یورپی یونین کے سب سے اعلٰیٰ نمائندہ فورم کے ذمہ دار ہیں اور برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یورپی یونین کی عدالت میں معاملہ زیر بحث آنے سے پہلے یورپی یونین کے کسی ممبر کی عدالت کی طرف سے بھی ایرانی پاسداران کی ٹھوس بنیادوں پر مذمت کرنا ہو گی۔

ایرانی پاسداران انقلاب کا قیام ایرانی میں 1979 کے انقلاب کے بعد عمل میں لایا گیا تھا۔ اب یہ ایک ایسی فوج ہے جو بری ، بحری اور فضائی تینوں ونگز پر مشتمل ہے۔ جبکہ بسیج نامی مذہبی سیکیورٹی فورس بھی اسی کو جوابدہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں